The news is by your side.

Advertisement

چیف جسٹس آف پاکستان بدین صورتحال کا نوٹس لیں، فہمیدہ مرزا

کراچی : سابق اسپیکر قومی اسمبلی اور سابق صوبائی وزیرداخلہ ڈاکٹرذوالفقار مرزاکی اہلیہ ڈاکٹر فہمیدہ مرزا نے کہا ہے کہ ڈاکٹرذوالفقار مرزا پر اگر کوئی کیس ہے تو کیا انہیں عدالت جانے کا کوئی حق نہیں ؟

ضمانت کے باوجود سترہ اٹھارہ پولیس موبائلیں گھر کے باہر کھڑی ہیں۔ بدین میں مرزا فارم ہائوس پر آپریشن کی صورتحال پیدا کی جا رہی ہے، چیف جسٹس سے اپیل ہے کہ وہ اس صورتحال کا فوری نوٹس لیں۔

ان خیالات کا اظہار ڈاکٹر فہمیدہ مرزا نے کراچی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

تفصیلات کے مطابق فہمیدہ مرزا اپنے شوہر کےدفاع کیلئے میدان میں آگئیں، ان کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات کے ذمہ دار وزیراعلیٰ سندھ ہیں۔

عدالتی حکم کے باوجود پولیس سے فائرنگ کروائی گئی۔ آئی جی سندھ بتائیں کے عدالتی حکم کے باوجود مرزا فارم ہائوس پر پولیس کیوں تعینات کی گئی ہے۔

گزشتہ تین روز سے آپریشن کی صورتحال پیدا کی جا رہی ہے۔ ذوالفقار مرزا کی سیکیورٹی پر تشویش ہے۔ پولیس میں سیاسی مداخلت واضح نظر آر ہی ہے۔ ایسے پولیس افسران بدین بھیجیں جو سیاست میں ملوث نہ ہوں۔

میری چیف جسٹس آف پاکستان سے اپیل ہے کہ وہ صورتحال کا فوری نوٹس لیں، ان کا کہناتھا کہ ہم نے پیپلز پارٹی کیلئے بے شمار قربانیاں دیں ہیں، گھر کے باہر موبائلیں کھڑی کرکے آپریشن کا تاثر دیا جا رہا ہے۔

ڈاکٹر ذوالفقار مرزا اور کارکنان پر دہشت گردی کے مقدمات قائم کردئیے گئے،یہ کہاں کا انصاف ہے؟ انہوں نے کہا کہ وفاق مضبوط آئی جی سندھ اور چیف سیکریٹری تعینات کرے۔

ڈاکٹر فہمیدہ مرزا کا کہنا تھا کہ ذوالفقار مرزا پر کیس ہے تو کیا انھیں عدالت میں جانے کا حق نہیں ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکام کی جانب سے مرزا فارم ہائوس پر کھانے اور پینے کی اشیاء لے جانے پر بھی پابندی عائد کر دی گئی ہے۔

ہماری طاقت غریب بدین کے عوام تھے۔ ذوالفقار مرزا طویل عرصے سے پارٹی کیلئے قربانیاں دے رہے ہیں۔ بدین میں چھاپوں کی مذمت کرتی ہوں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں