چین چاند پر اپنا اگلا تحقیقی مشن 2017ء میں بھیجے گا -
The news is by your side.

Advertisement

چین چاند پر اپنا اگلا تحقیقی مشن 2017ء میں بھیجے گا

بیجنگ: ایک طرف چین ہر سطح پر اپنی کامیابیوں کے جھنڈے گاڑنے میں مصروف ہے تو دوسری طرف دنیا پر راج کرنے کا خواب دیکھنے والا امریکا پستی کا شکار نظر آتا ہے، چین نے خلائی ریس میں بھی امریکا کو پیچھے چھوڑ دیا۔

چین نے چاند پر اپنا اگلا تحقیقی مشن دو ہزار سترہ میں بھیجنے کا منصوبہ بنایا ہے۔

چینی حکام کے مطابق اس مشن کا مقصد چاند کی سطح سے مختلف نمونے جمع کر کے انہیں زمین پر واپس لانا ہو گا۔ چین کی طرف سے چاند پر اپنا پہلا تحقیقی مشن کامیابی سے اتارا جا چکا ہے۔

یہ روبوٹک گاڑی چاند کی سطح پر موجود حالات اور اس کی سطح کے نمونوں کا جائزہ لے رہی ہے۔ چینی حکمران ملکی خلائی تحقیق کے پروگرام کو مسلسل ترقی دے رہے ہیں۔

خیال رہے کہ چین کا چاند پر تحقیقات کیلئے بھیجا جانے والا تجرباتی مشن کامیابی کے ساتھ واپس زمین پر پہنچ گیا ہے، چینی ایرواسپیس سائنس اور ٹیکنالوجی کارپوریشن کے تیار کردہ اس خلائی جہاز نے اپنے آٹھ روزہ مشن کے دوران چاند کا مختلف اوقات کا تجرباتی ڈیٹا حاصل کیا، جس میں خلاء سے دوبارہ زمین میں داخل ہونے کے لیے رہنمائی، راستہ، گرمی کی شددت اور توازن کے حوالے سے معلومات حاصل کی گئیں ۔

اس مشن کا مقصد سال 2017 میں چینج فائیو نامی تحقیقی خلائی مشن کو چاند پر بھیجنے اور زمین پر وآپس لانے کے لیے مختلف پہلووٴں کی جانچ پڑتال کرنا ہے۔

یاد رہے کہ حال ہی میں دو بڑے واقعات نے امریکی ماہرین کی اہلیت کی قلعی کھول کر رکھ دی تھی، ایک واقعہ میں ورجن گلیکٹک سپیس شپ کرافٹ کیلیفورنیا کے صحرا میں تجرباتی پرواز کے دوران گر کر تباہ ہوگیا تھا۔ جس میں ایک پائلٹ بھی ہلاک ہوا۔

اس سے قبل انتیس اکتوبر کو بھی امریکا کو کچھ ہی سیکنڈز میں اربوں ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑا، بین الاقوامی خلائی سٹیشن کے لیے رسد لے جانے والا راکٹ امریکی ریاست ورجینیا میں لفٹ آف کے سات سیکنڈ بعد پھٹ کر تباہ ہو گیا تھا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں