site
stats
اہم ترین

انقلاب مارچ: عوامی پارلیمنٹ نے شاہراہ دستور پر دھرنا دینے کا فیصلہ کرلیا

اسلام آباد: پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر علامہ طاہر القادری  انقلاب مارچ کے شرکاء سے خطاب کررہے ہیں انہوں نے آج عوامی پارلیمنٹ کے انعقاد کا اعلان کر رکھا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ آج سے فیصلے عوامی پارلیمنٹ کرے گی۔

انہوں نے عوامی پارلیمنٹ سے سوال کیا کہ آیا یہاں دھرنا جاری رکھا جائے یا اسے پر امن طریقے سے پاکستان کے پارلیمنٹ کے سامنے منتقل کیا جائے جس پر عوام نے انتہائی پر جوش انداز میں دھرنا پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے منتقل کرنے کا اعلان کیا۔

انہوں نےدوسرا سوال عوامی پارلیمنٹ سے کیا کہ اگر شہدائے انقلاب کا بدلہ قانونی طریقے سے نا ملے تو کیا آپ بغیر انصاف لئے واپس جانے کے لئے تیار ہیں؟ جس پر عوام کا جواب انتہائی جوش و خروش کےساتھ نفی میں آیا۔

تیسرا سوال انہوں نے کیا کہ نواز شریف اور شہباز شریف دونوں ہی انقلابیوں کے قتل کے ذمہ دار ہیں لیکن نہ تو وہ مستعفی ہوئے اور نہ ہی ان  کو گرفتار کیا گیا تو کیا  آپ انہیں سزا دلائے بغیر واپس جانے کے لئے تیار ہیں۔ اس سوال کا جواب بھی عوام نے نفی میں دیا اور اس خواہش کا اظہار کیا کہ وہ حکومت کو ختم کئے بغیر نہیں جائیں گے۔

انہوں نے جسلے کے شرکاء سے چوتھا سوال کیا کہ کیا آپ چاہتے ہیں کہ موجودہ اسمبلیاں جو آئین کے آرٹیکل 213 اور 218 کی خلاف ورزی کرتے ہوئ قائم کی گئی ہیں یہ رہیں یا ان کو تحلیل کردیا جائے جس پر عوام نے اسمبلیاں تحلیل کرنے پر زور دیا۔

پانچواں سوال انہوں نے کیا کہ آیا سانحہ ماڈل ٹاؤن کے نامزد ملزمان کے خلاف ایف آئی درج ہونی چاہئے یا نہیں جس کا جواب عوام کیجانب سے اثبات میں آیا۔

انہوں نے چھٹا سوال کیا کہ آیا ملک میں قومی حکومت قائم کرکے سبز انقلاب لانا چاہتے ہیں یا نہیں جس کے جواب میں عوام نے قومی حکو مت کے قیام پر زور دیا۔

کیا آپ عوامی انقلاب کے دس نکاتی اصلاحی ایجنڈے کا نفاذ قبول کردیتے ہیں اس سوال کے جواب میں عوام نے اصلاحی ایجنڈے کے نفاذ کو قبول کیا۔

ساتواں سوال کیا کہ اگر حکومت اس ایجنڈے کو خود نافذ کرنے کا اعلان کرے تو کیا آپ اسے منظور کریں گے جس کے جواب میں عوام نے موجودہ حکومت پر اعتبار کرنے سے انکار کردیا۔

انہوں نے مزید سوال کیا کہ آیا آپ دہشت گردی کا خاتمہ چاہتے ہیں جس پر عوام نے ایک جت ہوکر جواب دیا کہ جی ہاں ہم سب دہشت گردی کا جڑ سے خاتمہ چاہتے ہیں۔

عوامی پارلیمنٹ کےاجلاس میں کئے گئے فیصلوں کا اعلان کرتے ہوئے ڈاکٹر طاہر القادری نے اعلان کیا کہ اب دھرنا عوامی خواہش کے مطابق شاہراہ دستور پر ہوگا۔ اس موقع پر انہوں نے دھرنے کے شرکا ء سے حسب ِ سابق پر امن رہنے کا ہحلف لیتے ہوئے کہا کہ آُپ ایسے ہی پر امن رہیں گے جیسا کہ گزشتہ دنوں میں رہیں ہیں۔

اس موقع پر ڈاکٹر طاہر القادری کا کہنا تھا کہ پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے ماضی میں بھی دھرنے دئے جاتے رہیں ہیں یہاں تک کہ پاکستان مسلم لیگ ن بھی ایک مختصر دھرنا جسے طاہرالقادری نے ’’دھرنی‘‘ کا نام دیا ، دے چکی ہے۔

ان کا کہناتھا کہ ہم پیپلز پارٹی دور ِ حکومت میں بھی پارلیمنٹ کے سامنے ایک پر امن دھرنا دے چکے ہیں اور ہمارا آئینی حق ہے۔ انہوں نے کہا کہ سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری بھی عدلیہ کی بحالی کے لئے پارلیمنٹ کے سامنے دھرنا دیں چکے ہیں اور آئین میں ایسا کہیں نہیں لکھا کہ شاہراہ ِ دستور  پر دھرنا نہیں دیا جاسکتا۔

انہوں نے دھرنے شرکاء کو حکم دیا کہ کوئی بھی شخص نہ تو سفارت خانوں کی جانب جائے گا اورنہ ہی سپریم کورٹ کا رخ کرے گا ان اداروں کو تحفظ دیا جائے گا۔

اس کے ساتھ ہی انہوں نے حکومت کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ یہ پر امن مظاہرین ہیں اور وہ خود ان کے پر امن رہنے کی ذمہ داری لیتے ہیں لہذا پولیس انقلابیوں کو روک کر بد امنی نہ کرے اور اسلام آباد کی زمین پر مزید خون نہ بہے۔

انہوں نے پولیس کے اہلکاروں کو متنبہ کیا کہ حکمرانوں کو تو چلے جانا ہے پولیس ان حکمرانوں کے کہنے پر پہلئ ہی چودہ جانیں لے چکی ہے اب مزید کوئی ظلم نہ کرے ورنہ پھر انہیں معاف نہیں کیا جائے گا۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top