The news is by your side.

Advertisement

ڈسکہ: وکلاکی ہلاکت پر وکلا برادری کا ملک بھر میں احتجاج جاری

ڈسکہ: کالی وردی اورکالے کوٹ والوں کا تصادم سنگین ہوگیا پولیس فائرنگ سے صدرباراور ساتھی وکیل کی ہلاکت پر وکلاء آپےسےباہر ہوگئے۔

وکلا کی ریلی پر پولیس کی مبینہ فائرنگ سے سیالکوٹ بار کے صدرراناخالد اور ایڈووکیٹ عرفان چوہان جاں بحق ہوگئے جس کے بعد وکلا نےبھی ڈسکہ کی سڑکوں کومیدان جنگ بنادیا۔

 ذرائع کے مطابق پولیس اور وکلا میں کشیدگی اس وقت شروع ہوئی جب ٹی ایم او دفتر کے باہر احتجاج کے بعد پولیس نے تین وکلا کو کمرے میں بند کر دیا، بار کے صدر آئے اورساتھیوں کو چھڑوالیا۔

 بعد ازاں وکلا ٹی ایم او کے خلاف مقدمہ درج کرانے پہنچے، پولیس نے بھی نہ سنی تو وکلا نے مار دھاڑ شروع کردی، اس دوران ایس ایچ او تھانہ ڈسکہ کی مبینہ فائرنگ سے بار کے صدر سمیت دو وکلا جاں بحق ہوگئے۔

ساتھیوں کی ہلاکت پر وکلاآپے سےباہرہوگئےپولیس والے جہاں نظر آئے مارنا شروع کردیا، مظاہرین نے پولیس کی گاڑی کا شیشہ توڑ ڈالااور ڈی ایس پی کے دفترکو بھی اآگ لگادی۔


تحریک انصاف کا ملک گیراحتجاج کااعلان


 تحریک انصاف نے ڈسکہ واقعے پرملک گیراحتجاج کااعلان کردیا ،عمران خان نےکارکنوں کو ملک بھر میں پرامن احتجاج کر نے کی ہدایت کردی، واقعے پر دیگر سیاسی رہنما بھی چراغ پا دکھائی دئے۔

چیئر مین پی ٹی آئی عمران خان نے واقع پر اظہار مذمت کرتے ہوئے حکومت پنجاب پر شدید تنقید کی،ان کا کہنا تھا کہ اب وقت آگیا ہے کہ عوام شریف گلوؤں کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں۔


ڈسکہ واقع پر جے آئی ٹی ٹیم تشکیل دینے کا فیصلہ


دو وکلا کے قتل کی تحقیقات کیلئے حکومت پنجاب نے مشترکہ تحقیقاتی کمیٹی بنانے کا فیصلہ کرلیا ۔

ڈسکہ میں پولیس کے ہاتھوں ساتھیوں کے قتل کے بعد وکلا برادری بپھری تو حکومت کیلئے امن و امان کی صورتحال چیلنج بن گئی۔

وزیر اعلیٰ پنجاب نے فوری طور پر واقعے کی تحقیقات کیلئے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم تشکیل دینے کا فیصلہ کرلیا۔

 ترجمان پنجاب حکومت کے مطابق جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم میں پولیس آئی ایس آئی اور آئی بی کے نمائندے شامل ہوں گے۔

وزیراعلیٰ نے چیف سیکرٹری کوہدایت کی کہ واقعے کی جوڈیشل انکوائری کے لئے چیف جسٹس کو خط لکھا جائے۔

وکلاآپے سےباہرڈی ایس پی آفس اور اسسٹنٹ کمشنرکےگھرکوآگ لگا دی۔


وزیر اعظم نےوکلا کے قتل کا نوٹس لے لیا


وزیر اعظم نواز شریف نے ڈسکہ میں وکلا کے قتل کا نوٹس لے لیا، حکومت پنجاب نے ذمہ داروں کو سزا دینے کی یقین دہانی کرادی۔

ڈسکہ میں پولیس فائرنگ سے وکلا کی ہلاکت کے بعد پنجاب میں امن و امان کی صورتحال حکومت کیلئے چیلنج بن گئی وزیر اعظم نوازشریف نے ڈسکہ واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے وزیر اعلیٰ پنجاب سے رپورٹ طلب کرلی ہے۔

وزیر داخلہ چوہدری نثار نے جاں بحق افراد کے لواحقین سے تعزیت کی اور آئی جی پنجاب سے رپورٹ طلب کرلی حکومت پنجاب کے ترجمان زعیم قادری کا کہنا ہے واقعہ افسوسناک ہے وکلا برادری قانون کے دائرے میں رہ کر احتجاج کرے۔

 رانا ثناءاللہ کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ پنجاب کی ہدایت پرمقدمہ درج ہوگیاہے واقعےکےذمےداروں کو ضرور سزا ملے گی، رانا ثناءاللہ کا کہنا تھا وکلا کی آڑ میں شر پسند عناصر بھی فائدہ اٹھا رہے ہیں۔


سیاسی رہنماوں نے شدید رد عمل


 ڈسکہ: پولیس کے ہاتھوں دووکلاء کی ہلاکت پر سیاسی قائدین نے غم و غصے کا اظہار کیا،چیئر مین پی ٹی آئی عمران خان نے واقع پر اظہار مذمت کرتے ہوئے حکومت پنجاب پر شدید تنقید کی،ان کا کہنا تھا کہ اب وقت آگیا ہے کہ عوام شریف گلوؤں کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں۔

ڈسکہ میں  پولیس کے ہاتھوں دووکلاء کی ہلاکت پر سیاسی قائدین نے غم و غصے کا اظہار کیا،چیئر مین پی ٹی آئی عمران خان نے واقع پر اظہار مذمت کرتے ہوئے حکومت پنجاب پر شدید تنقید کی،ان کا کہنا تھا کہ اب وقت آگیا ہے کہ عوام شریف گلوؤں کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں۔

ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کا کہنا تھا کہ بے گناہ شہریوں کا قتل ناقابل قبول ہے، قانون پسند شہریوں پر گولیاں چلانے کے بجائے ان کی جان ومال کی حفاظت کی جائے۔

چوہدری شجاعت حسین اور چوہدری پرویز الہی نے ڈسکہ میں وکلاء کے قتل پر اظہار مذمت کیا۔

پنجاب اسمبلی میں بھی سیالکوٹ واقعہ پر اپوزیشن نے احتجاج کیا، سیکرٹری انفارمیشن فنکنشل لیگ پنجاب بلال گورایہ نے کہا کے ڈسکہ ڈسٹرکٹ بار کے صدر اور انکے ساتھی کے قتل پر وزیراعلی پنجاب کو مستعفی ہوجانا چاہیے۔

‎ ترجمان پاکستان عوامی تحریک نے کہا کہ وزیراعلیٰ نے پولیس کو شہریوں کو مارنے کا لائسنس دے رکھا ہے۔

پاکستان تحریک انصاف کے رہنما شاہ محمود قریشی نے بھی ڈسکہ میں وکلا کی ہلاکت کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔


وکلا کا ملک بھر میں احتجاج جاری


 ڈسکہ میں وکلا کی ہلاکت کے بعد وکلا نے ملک بھر میں احتجاج شروع کردیا، پاکستان اورپنجاب بار کونسل نے کل عدالتوں کے بائیکاٹ کااعلان کردیا۔

سیالکوٹ میں پولیس کی مبینہ فائرنگ سے ساتھیوں کی ہلاکت پر پنجاب سمیت ملک بھر کے وکلا بپھر گئے لاہور میں پنجاب بار کونسل کے وکلا نے احتجاجی مظاہرہ کرتے ہوئے مال روڈ بلاک کردیا۔

وکلا نے حکومت اور پولیس کے خلاف شدید نعرے بازی کی ملتان کے وکلا نے ساتھیوں کی ہلاکت پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا۔

وکلا کی پولیس سے مڈ بھیڑ ہوئی تو پولیس موبائل کے شیشے ٹوٹ گئے فیصل آباد میں بھی کالے کوٹ والے مشتعل ہوگئے، پولیس اور وکلا میں کشیدگی بھی سامنے آئی،احتجاج کے دوران تھا نہ سول لائن پر پتھراؤ بھی کیا گیا ۔

گوجرانوالہ کے وکلا بھی سڑکوں پر نکلے اور غم و غصے کا اظہار کیا،ایک وکیل نے خالی کھڑی پولیس موبائل کا شیشہ بھی توڑ ڈالا۔


پولیس کی مبینہ فائرنگ: صدرڈسکہ بار، وکیل جاں بحق، چارزخمی


 وکلاء برادری کے احتجاج پرپولیس کی مبینہ فائرنگ کے نتیجے میں صدرڈسکہ بارجاں بحق جبکہ متعدد وکیل زخمی ہوگئے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق تھانہ سٹی کی حدود میں وکلاء ٹاون میونسپل آفیسر (ٹی ایم او) کے خلاف مقدمہ درج نہ کئے جانے کے خلاف احتجاج کررہے تھے کہ پولیس نے فائرنگ کردی۔

فائرنگ کے نتیجے میں صدر ڈسکہ بار رانا خالد اور ان کے ہمراہ ایک وکیل عرفان چوہان موقع پرہی گولیاں لگنے کے سبب جاں بحق ہوگئے۔

فائرنگ کے واقعے میں مزید چار وکیل گولیاں لگنے کے سبب زخمی ہوئے۔ مقتولین کی میتیں اور زخمیوں کو اسپتال منتقل کیا جاچکا ہے جہاں زخمیوں کو طبی امداد دی جارہی ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ احتجاج کے دوران پولیس اور احتجاج کرنے کے والے وکلاء کے درمیان تصادم کا واقعہ بھی پیش آیا تھا۔

 وزیر اعلیٰ پنجاب نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے آر پی او سے واقعے کی رپورٹ طلب کرلی۔

پولیس کی جانب سےایک بار پھر فائرنگ کا واقعہ پیش آیا جس میں ایک اور وکیل محمد سمیع  زخمی ہوگئے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں