کراچی:ڈاکیارڈ پر دہشت گردوں کا حملہ، پولیس افسرکا بیٹا ملوث نکلا -
The news is by your side.

Advertisement

کراچی:ڈاکیارڈ پر دہشت گردوں کا حملہ، پولیس افسرکا بیٹا ملوث نکلا

کراچی: یوم دفاع پر پی این ایس ڈاکیارڈ پر حملے میں سندھ پولیس کے ایس ایس پی کا بیٹا اویس جکھرانی ملوث نکلا، گرفتار ملزمان کی نشاندہی پر نیٹ ورک میں موجود متعدد دہشتگرد گرفتار کرلئے گئے ہیں۔

ہفتے کے روز دہشت گردوں نے پی این ایس ڈاکیارڈ پر منظم حملے کیا، بحریہ کے چاق چوبند جوانوں نے پی این ایس ڈاکیارڈ پر حملے کی کوشش ناکام بناتے ہوئے دو دہشتگردوں کو ہلاک جبکہ چار کو گرفتار کیا تھا، واقعہ میں ایک نیوی اہلکار شہید اور چھ زخمی بھی ہوئے۔

گرفتار دہشت گردوں سے تفتیش کے بعد حساس اداروں نے چھاپے مارکر ملک کے مختلف حصوں سے واقعے میں ملوث دیگر کرداروں کو گرفتار کرکے بڑی مقدار میں ہتھیار اور اسلحہ برآمد کرلیا ہے۔

تفتیشی حکام کے مطابق پی این ایس ڈاکیارڈ میں حملے میں ملوث ایک حملہ آورکی شناخت اویس جکھرانی کے نام سے ہوگئی ہے، اویس جکھرانی ایس ایس پی ایس آر پی علی شیر جکھرانی کا بیٹا بتایا جاتا ہے،اویس جکھرانی کچھ عرصے قبل نیوی میں ملازم تھا ،کچھ عرصے قبل نیوی چھوڑ دی تھی، اویس جکھرانی کالعدم تنظیموں سے رابطے میں تھا اور چھ ستمبر کو ساتھیوں کے ساتھ مل کر پی این ایس ڈاکیارڈ پر حملہ کیا۔

تفتیشی ذرائع کا کہنا تھا کہ حملہ آور پی این ایس ڈاکیارڈ میں لنگر انداز جہاز کو نشانہ بنانا چاہتے تھے، حملہ آوروں نے سمندر کے راستے سے حملہ کیا تھا جبکہ حملہ آوروں نے نیوی کا یونیفارم پہن رکھا تھا۔

ذرائع نے دعویٰ کیا کہ حملہ آوروں کے نیٹ ورک کا سراغ لگالیا گیا ہے، مختلف مقامات پر چھاپوں کے دوران ایک درجن سے زائد مشتبہ افراد کوحراست میں لیا گیا ہے، جن سے تفتیش جاری ہے۔

واقعے کی ذمے داری مبینہ طور پر کالعدم تنظیم  تحریک طالبان کے رہنما شاہد اللہ شاہد نے قبول کی تھی۔

واضح رہے کہ علی شیرجکھرانی سابق اے آئی جی لیگل تھے، جن کی رپورٹ پر کراچی میں کالعدم تنظیموں کیخلاف کاروائی کرنے والے پولیس افسران کی عہدوں سے تنزلی کی گئی اور کراچی پولیس میں ایک بحران کی صورتحال پیدا ہوگئی۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں