site
stats
اہم ترین

کراچی :ایف بی آر کی عمارت میں آتشزدگی، اہم ریکارڈ جل گیا

کراچی:  ایف بی آر کی عمارت میں لگی آگ پر قابو پالیا گیا ہے، تاہم آگ سے اہم ریکارڈ جل کر خاک ہوگیا۔

سندھ سیکریٹریٹ کے قریب فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی عمارت میں اچانک آگ بھڑک اٹھی، شعلوں نے دیکھتے ہی دیکھتے عمارت کی تین منزلوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا، ایف بی آر بلڈنگ میں آتشزدگی سے بڑی تعداد میں انکم ٹکس گوشوارے اور کئی فائلز جل گئیں۔ واقعہ محض حادثہ تھا یا سازش تحقیقاتی ادارے اس بات کا تعین کررہے ہیں۔

آگ کی اطلاع ملتے ہی فائر بریگیڈ کی سات گاڑیاں پہنچ گئیں، آگ کے باعث سیکڑوں افراد عمارت میں محصور ہوگئے، جنہیں بحفاظت ریسکیو کرلیا گیا ہے، فائر بریگیڈ کی 8 گاڑیوں نے 2گھنٹوں کی جدوجہد کے بعد آگ پر قابو پالیا، آگ لگنے سے کوئی جانی نقصان تو نہ ہوا لیکن اہم ریکارڈ جل کر خاکستر ہوگیا۔

 حکام کا کہنا ہے کہ عمارت میں آگ لگنے کی تحقیقات کی جائے گی۔

 آتشزدگی کے باعث جل جانے والے کاغذات اور کمپیوٹر زکو کئی گھنٹوں تک عمارت کی چوتھی منزل سے باہر پھینکا جاتا رہا کمشنر ریونیوں کا مؤقف ہے، جل جانے والے کاغذات کا ڈھیر محض کچرا ہے، آتشزدگی میں ایف بی آر کا ریکارڈ محفوظ رہا۔

ذرائع کے مطابق اتشزدگی کے نتیجے میں بڑی تعداد میں انکم ٹکس گوشوارے اور کپمیوٹر فائلز جل گئ ہیں جس پر تحقیقاتی اداروں نے مختلف پہلوں سے تحقیقات کا آغاز کردیا ہے۔

کراچی میں فیڈرل بورڈریونیو کی عمارت میں آتشزدگی سے کئی سوالات اٹھنے لگے ہیں، کراچی میں فیڈرل بورڈریونیو کی عمارت میں آتشزدگی سے اہم ریکارڈ خاکستر ہوگیا لیکن آگ عمارت کی تیزری چوتھی اور ساتویں بلڈنگ میں ہی کیوں بھڑکی، ایف بی آر کی انتہائی اہم عمارت میں اچانک آگ بھڑک اٹھی۔

تیسری منزل پر بلند ہوتے شعلوں نے چوتھی منزل کو بھی لپیٹ میں لے لیا یہاں تک تو ٹھیک ہوسکتا ہے آگ شارٹ سرکٹ کے سبب لگی ہو۔۔۔ لیکن آگ کا جمپ کرکے ساتویں بھڑکنا واقعے کو مشکوک کرگیا، آگ کے بے قابو شعلے پانچویں چھٹی منزل کو گھیرے میں کیوں نہ لےسکے؟ بلند ہوتے شعلے ساتویں منزل میں کیسے داخل ہوئے؟ کیا سرکش شعلوں کو اتنی سمجھ تھی کہ عمارت کہ اہم حصے صرف تیسری چوتھی اور ساتویں منزل ہے؟

عمارت کے انہی منزلوں میں آگ کیوں بھڑکی جہاں حساس ریکارڈ موجود ہوتا ہے؟کیا ایک بار پھر بازگشت ہوگی کہ آگ لگی نہیں لگائی گئی تھی؟

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top