The news is by your side.

Advertisement

کراچی میں مبینہ پولیس مقابلہ، مقتول کے ورثاء کا وزیراعلیٰ ہاؤس پراحتجاج

کراچی : وزیرِاعلیٰ سندھ ہاؤس کے باہرگذشتہ روز فیرئر کے علاقے میں مبینہ پولیس مقابلے میں مارے جانیوالے مبینہ ملزم کاشف کے ورثاء نے لاش  رکھ کر احتجاج کیا جس کے باعث وزیراعلٰی ہاؤس کے اطراف ٹریفک معطل رہا۔

فیرئر کے علاقے میں کوکونٹ پارک کے قریب مبینہ پولیس مقابلے میں مارے جانیوالے مبینہ ملزم کاشف حسین کے ہلاکت کے خلاف ورثا  نے وزیراعلیٰ ہاؤس کے باہر احتجاج کیا، احتجاج میں خواتین اور مردوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

کاشف کی والدہ  نے الزام عائد کیا کہ پولیس آٹھ نومبر کو انکے بیٹے کو گھر سے پکڑ کر لے گئی تھی اور بعدازاں اسکی رہائی کے لیے ڈھائی لاکھ روپے مانگ رہی تھی پیسے نہ دینے پر پولیس نے کاشف کو جعلی مقابلے میں مار دیا۔ کاشف کی والدہ سمیت دیگر مظاہرین کا مطالبہ تھا کہ کاشف کو جعلی مقابلے میں مارنے والے شاہ جہاں لاشاری کے خلاف مقدمہ درج کیا جائے۔

بعدازاں احتجاجی مظاہرے میں پیپلزپارٹی کے رہنما راشد ربانی اور وقار مہدی بھی پہنچے اور دونوں رہنماؤں کی جانب سے ورثا کو انصاف کی یقین دہانی کے بعد ورثا نے احتجاج ختم کردیا۔

دوسری جانب پولیس کا کہنا ہے کہ مقابلے میں مارے جانیوالا ملزم کاشف جرائم پیشہ شخص تھا اور ایم ایل او
جناح منظورمیمن کے قتل میں بھی ملوث تھا۔

احتجاج کے باعث کئی گھنٹوں تک وزیراعلیٰ ہاؤس اور اسکے اطراف کی سڑکوں پر ٹریفک کی روانی معطل رہی۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں