The news is by your side.

Advertisement

کراچی میں پانی کا بحران بدستور جاری، حکومتی دعوے دھرے رہ گئے

کراچی : شہر قائد میں پانی کابحران شدت اختیار کرگیا شہری پریشانی میں مبتلا ہوگئے،شہریوں کا کہنا ہے کہ حکومت ناغے کا نظام تو لے آئی لیکن پانی ملے تو بھی سہی۔

بجلی کی لوڈشیڈنگ، سی این جی اسٹیشنز کی تین سے چار دن کی بندش اور گیس پریشر میں کمی کے بعد اب اہلیان کراچی پانی نہ ہونے کی دہائی دے رہے ہیں۔

کراچی کے ضلع غربی اور وسطی کے علاقوں میں ہر روز پانی کےایک ہزار مفت ٹینکرز کا وعدہ بھی پورا نہیں کیا جا رہا۔ گلستان جوہر، نیو کراچی ، ایف سی ایریا ، بلدیہ ٹاؤن ، سائٹ ، اورنگی ٹاؤن لانڈھی، کورنگی، ملیر،لائنزایریا اور منگھوپیر میں آباد لاکھوں گھرانے پانی نہ ہونے کی دہائی دے رہے ہیں۔

پانی کی قلت کےشکار علاقوں میں ایسے لوگ بستے ہیں جو تین سے آٹھ ہزار روپے میں واٹر ٹینکر نہیں خرید سکتے۔

شہر کےسترفیصدعلاقےپانی کےمسائل سے دوچار ہیں۔ ملیر،کورنگی،اورنگی ٹاؤن،سائٹ میٹروول،نارتھ کراچی،لانڈھی،شیریں جناح کالونی،بلدیہ ٹاؤن اوربہت سےدیگرعلاقوں میں شہریوں کو پینےکاپانی بھی میسر نہیں۔

ڈیفنس، کلفٹن جیسےپوش علاقوں کےمکینوں کوبھی اسی صورتحال کاسامناہے۔ دھابیجی پمپنگ اسٹیشن پرآئےروزبجلی کی لوڈشیڈنگ بھی ایک بہت بڑامسئلہ ہے۔

دوکروڑنفوس پرآبادشہرمیں پانی کےبحران کی بڑی وجہ بدانتظامی اورسیاسی جماعتوں کے درمیان اختلافات ہیں۔ سیاسی کشمکش اور انتظامیہ کی لاپرواہی نے ٹینکرمافیاکی چاندی کردی ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں