کراچی کا ہر دوسرا شخص اسٹریٹ کرائمز کا شکار ہوچکا ہے، سروے رپورٹ -
The news is by your side.

Advertisement

کراچی کا ہر دوسرا شخص اسٹریٹ کرائمز کا شکار ہوچکا ہے، سروے رپورٹ

برطانیہ : برطانوی نشریاتی ادارے نے سروے شائع کیا ہے، جس کے مطابق کراچی کا ہر دوسرا شخص اسٹریٹ کرائمز کا شکار ہوچکا ہے، کسی کا موبائل چھن جاتا ہے تو کسی کی رقم اور اے ٹی ایم بھی جرائم پیشہ افراد کی شکارگاہ ہیں۔

پاکستان کا سب سے بڑا شہر کراچی جہاں کبھی فاختہ امن کے گیت گاتی تھی، شہری بلاخوف و خطرراتوں کو گھومتے تھے، اب یہ سب قصے داستان ہوئے، برطانوی نشریاتی ادارے کےتعاون سے کرائے گئے سروے میں انکشاف ہوا ہے کہ شہر کی نصف سے زائد آبادی کسی نہ کسی طورجرائم پیشہ عناصرکی بھینٹ چڑھ چکی ہے، چھیالیس فیصد افراد یا تو خود یا انکے اہلخانہ اسٹریٹ کرائم کا شکار ہوچکے ہیں۔

سروے کے مطابق اورنگی ٹاؤن لوٹ مار میں سر فہرست ہے، نیوکراچی میں چھینا جھپٹی کی شرح سب سے کم ہے، شہر بے اماں کا سب سے خطرناک علاقہ لیاری ہے، جہاں تینتالیس فیصد افراد ذاتی طور پر کسی جرم کا شکار ہوچکے ہیں۔

سروے  میں بتایا گیا ہے کہ ملیر، سائٹ، صدر، گڈاپ، بن قاسم، کورنگی، نارتھ ناظم آباد اور گلبرگ میں جرائم کا تناسب چالیس فیصد جبکہ گلشن اقبال، لانڈھی اور شاہ فیصل کالونی میں تیس فیصد خاندان براہ راست جرائم کا سامنا کر چکے ہیں۔

جرائم پیشہ افراد کاسب سے پسندیدہ جرم شہریوں کو موبائل فون سےمحروم کرنا، پرس اور پھر موٹرسائیکل چھیننا ہے۔

شہرمیں گاڑیاں چھیننے کی بیالیس فیصد واردات صبح سویرے کی جاتی ہیں جبکہ بھتے کی واردات کا تناسب سورج ڈھلنے کے بعد فروغ پاتا ہے۔

کراچی میں ڈیڑہ سال سے جاری ٹارگٹڈ آپریشن کی سمت پر شہریوں کی تشویش برقرار ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں