site
stats
اہم ترین

کراچی: 26بچیاں ایس ایس پی آفس منتقل، کورنگی سے 3مزید بچیاں بازیاب

کراچی: بازیاب کرائی گئی بچیوں کی تعداد36 ہوگئی ہے، باجوڑ سے کراچی لائی گئی مزید تین بچیاں کورنگی سے بازیاب کرالی گئیں۔ کراچی کے علاقے لیاقت آباد سے ملنے والی چھبیس بچیاں ایس ایس پی آفس منتقل کر دی گئیں ہے، بچیوں کی نگران خاتون کے رشتہ د ار کو باجوڑ سے گرفتار کرلیا گیا ہے۔

کراچی کے علاقے لیاقت آباد میں قرض وصولی کیلئے مقروض کے گھر منتقل کی جانے والی چھبیس بچیوں کو پولیس نے تحویل میں لے کر ایس ایس پی وسطی کے دفتر منتقل کر دیا ہے۔ ایس ایس پی وسطی نے کہا ہے کہ ان بچیوں کو صرف انکے والدین یا بھائیوں کے سپرد کیا جائے گا کسی رشتہ دار کے حوالے نہیں کی جائیں گی۔

ایس ایس پی سینٹرل نے بچیاں لینے کے لئے آنے والے رشتے داروں کو بتایا کہ بچیاں محفوظ ہاتھ میں ہیں اوران کے معاملے پر گورنر کے پی کے سے رابطہ ہو چکا ہے، گورنر خیبر پختونخوا سردار مہتاب مہر نے وزیراعلی قائم علی شاہ سے رابطہ کیا اور باجوڑ سے تعلق رکھنے والی بچیوں سے متعلق دریافت کیا۔ گورنر کے پی کے کی ہدایت پر پولیٹیکل ایجنٹ باجوڑ ایجنسی نے سندھ پولیس سے رابطے شروع کردیئے ہے۔

بچیوں کے رشتے داروں نے میڈیا کو بتایا کہ انہیں مدرسے پر بھروسہ تھا اس لئے بچیوں کو داخل کرایا تھا۔ بچیوں کی خبر ملنے پر بعد متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین کی ہدایت پر پارٹی رہنما لیاقت آباد پہنچے اور بچیوں کے والدین ملنے تک ان کی کفالت کا اعلان کیا تھا۔

بچیوں کی لیاقت آباد سے برآمدگی کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماوں نے کہا کہ واقعہ افسوس ناک ہے اور بچیوں کو ان کے گروالوں کے حوالے کرنے کیلئے جلد سے جلد اقدامات کئے جائیں۔ ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کا کہنا ہے کہ معصوم بچیوں کی بازیابی کسی المیے سے کم نہیں، یہ باجوڑ کی نہیں پاکستان کی بیٹیاں ہیں، جن کی حفاظت کی ذمہ داری ایم کیوایم کی ہے۔

معروف عالم دین مفتی نعیم کاکہنا ہے بچیوں کی خریدوفروخت ناجائز ہے۔ ملوث افراد کو سخت سے سخت سزادی جانی چاہیئے۔

باجوڑ سے رکن قومی اسمبلی شہاب الدین کہتے ہیں کراچی سے بازیاب ہونے والی بچیوں کو سیاسی رنگ دےدیا گیا ہے۔ جس سے وہ شدید مایوس ہوئے ہیں اور آج اسمبلی میں اس حوالے سے بھرپور احتجاج کریں گے۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top