سینیٹ انتخابات ، 22ویں آئینی ترمیم پراتفاق نہ ہوسکا -
The news is by your side.

Advertisement

سینیٹ انتخابات ، 22ویں آئینی ترمیم پراتفاق نہ ہوسکا

اسلام آباد: کل جماعتی پارلیمانی کانفرنس لاحاصل رہا، سینیٹ انتخابات میں ہارس ٹریڈنگ روکنے کیلئے بائیسویں آئینی ترمیم پر اتفاق رائے نہ ہوسکا۔

سینیٹ انتخابات میں ہارس ٹریڈنگ روکنے کے لئے آئینی ترمیم پر اتفاق نہ ہوسکا، پیپلز پارٹی اور جے یو آئی ف نے ترمیم کی مخالفت کی جبکہ تحریک انصاف، ایم کیوایم اور جماعت اسلامی سمیت متعددجماعتوں نے حمایت کی۔

بل کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے وزیراعظم نے سیاست کو کاروبار بنانے والوں پر کڑی تنقید کی۔

دوسری جانب پیپلز پارٹی کا کہنا ہے حکومت کا غیر سنجیدہ رویہ سینٹ انتخابات کے عمل کو شفاف بنانے میں ناکام نظر آرہا ہے جبکہ  پی ٹی ائی نے آئینی ترمیم کی صورت میں اسمبلیوں میں واپسی کا عندیہ دیدیا۔

ڈاکٹرعارف علوی کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی ترمیم کی حمایت کریگی۔

حکومت نے پی پی اور جے یو آئی ف کی مخالفت کے باوجود ہارس ٹریڈنگ کی روک تھام کیلئے بائیسویں آئینی ترمیم کا بل پارلیمنٹ میں پیش کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے، توقع ہے کہ یہ بل پیر کو سینیٹ میں پیش کر دیا جائیگا۔

یاد رہے کہ گزشتہ روز پارلیمانی جماعتوں کے رہنماؤں کا اجلاس وزیرِاعظم ہاوس میں وزیرِاعظم کی صدارت میں ہوا۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ سینٹ الیکشن میں ہارس ٹریڈنگ اور پیسے کے کارو بار کو روکنا سیاسی جماعتوں کی ذمے داری ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایسی ضمیر فروشی کو روکنے کی ہمارے پاس طاقت ہے، پیسے دے کر ووٹ خریدنا مکروہ فعل ہے۔

اجلا س میں بائیسویں آئینی ترمیم اور سینٹ الیکشن کے طریقہ کار میں تبدیلی سے متعلق حکومتی مسودہ پیش کیا گیا، پیپلز پارٹی اور جے یو آئی نے کسی بھی قسم کی ایسی ترمیم کی مخالفت کر دی ۔ دیگر جماعتوں نے ترمیم کی حمایت کی اتفاق رائے نہ ہونے پر اجلاس بے نتیجہ ختم ہوگیا تھا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں