کوٹ لکھپت جیل: سزائے موت کے مجرم زاہد حسین کے ڈیتھ وارنٹ جاری -
The news is by your side.

Advertisement

کوٹ لکھپت جیل: سزائے موت کے مجرم زاہد حسین کے ڈیتھ وارنٹ جاری

لاہور: انسدادِ دہشتگردی کی خصوصی عدالت نے قتل اور فائرنگ کرکے خوف و ہراس پھیلانے والے مجرم کے ڈیتھ وارنٹ جاری کر دیئے ہیں۔

لاہور کی انسدادِ دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے کوٹ لکھپت جیل میں قید سزائے موت پانے والے مجرم زاہد حسین کے ڈیتھ وارنٹ جاری کئے ہیں اور معاملہ سیشن عدالت کو بھجوا دیا ہے۔ جس نے مجرم کو پھانسی دینے کیلئے جوڈیشل مجسٹریٹ مقرر کر دیا گیا ہے۔

مجرم زاہد کو 15 جنوری کو تختہ دار پر لٹکایا جائے گا، زاہد حسین نے ملتان میں بازار میں سرعام فائرنگ کر کے ایک شخص کو قتل کیا تھا۔

اس سے قبل کراچی ، سکھر، راولپنڈی اور فیصل آباد میں سزائے موت کے سات مجرموں کو پھانسی دے دی گئی ہے۔

سکھر سینٹرل جیل میں صبح ساڑھے چھ بجے وزارتِ دفاع کے ڈائریکٹر اور ڈرائیور کے قتل میں ملوث تین مجرموں محمد طلحہ،خلیل احمد اور شاہد حنیف کو تختہ دار پر لٹکا دیا گیا، ملزمان کا تعلق کالعدم تنظیم سے تھا۔

کراچی میں سزائے موت کے قیدی بہرام خان کو بھی صبح ساڑے چھ بجے پھانسی دی گئی، بہرام خان نے دو ہزار تین میں ذاتی دشمنی پر سندھ ہائی کورٹ میں گھس کر ایڈوکیٹ اشرف کو قتل کیا تھا، سینٹرل جیل کراچی میں سنہ دو ہزار آٹھ کے بعد دی جانے والی یہ پہلی پھانسی ہے۔

راولپنڈی اڈیالہ جیل میں بھی صبح ساڑھے چھ بجے کراچی میں امریکی قونصلیٹ پر حملے میں سزائے موت کے مجرم ذوالفقار احمد کو تختہ دار پر لٹکایا گیا، امریکی قونصلیٹ پر حملے میں دو رینجرز اہلکار بھی شہید ہوئے تھے۔

فیصل آباد ڈسٹرکٹ جیل میں صبح سات بجے کے قریب سابق صدر پرویز مشرف پر حملے میں ملوث مجرموں نائیک نوازش علی اور مشتاق احمد کو تختہ دار پر لٹکادیا گیا، پھانسی کے موقع پر موجود مجرموں کے اہلخانہ کی جانب سے چیخ و پکار کے مناظر دیکھنے میں آئے جبکہ جیل انتظامیہ نے طبی معائنے کے بعد میتیں لواحقین کے حوالے کردیں ہیں۔

پھانسیوں پر علمدرآمد کے موقع پر سخت ترین سیکورٹی انتظامات کئے گئے تھے۔

اس سے پہلے نو جنوری کو مشرف حملہ کیس میں ملوث خالد محمود کو پھانسی دی گئی تھی۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں