کوچ، آئل ٹینکرتصادم: 62 سوختہ لاشوں کی شناخت کی کوششیں جاری -
The news is by your side.

Advertisement

کوچ، آئل ٹینکرتصادم: 62 سوختہ لاشوں کی شناخت کی کوششیں جاری

کراچی : شکار پور جانیوالی کوچ اور آئل ٹینکر میں تصادم کے بعد جھلس کر جاں بحق باسٹھ مسافروں کی سوختہ لاشوں میں سے کسی کی بھی شناخت نہ ہو سکی۔

جناح اسپتال کے شعبہ حادثات کی نگراں ڈاکٹر سیمی جمالی کے مطابق اب تک پینتیس لاشوں کے لواحقین نے ڈی این اے کیلئے نمونے دیئے ہیں، ڈاکٹر سیمی جمالی کے مطابق ڈی این اے ٹیسٹ کیلئے نمونے اسلام آباد بھیجے جائیں گے،  باسٹھ لاشیں ایدھی سرد خانے میں رکھی گئی ہیں۔

انکا کہنا تھا کہ جناح اسپتال کے میڈیکولیگل شبعے میں ڈی این اے کےنمونے حاصل کیے جارہے ہیں، جناح اسپتال کی شعبہ حادثات کی نگراں نے لواحقین سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے ڈی این اے کے نمونے جلد از جلد جناح اسپتال میں جمع کرائیں۔

دوسری جانب ذرائع کے مطابق سپر ہائی وے لنک روڈ پر کے حادثے کی ایف آئی آر اب تک درج نہ ہوسکی، ذرائع کا کہنا ہے کہ تین ڈی آئی جیز پر مشتمل کمیٹی نے ابتدائی رپورٹ وزیراعلیٰ سندھ کو ارسال کردی ہے۔

ابتدائی تحقیقات کے مطابق حادثہ آئل ٹینکرڈرائیور کی غفلت کےباعث پیش آیا، پورٹ کے مطابق بس نے بلال کالونی سے شکار پور کیلئے سفر شروع کیا اور لنک روڈ پر حادثہ ہوگیا، حادثے کے بعد بس کا ایک دروازہ بند ہوگیا، بس مالک نے ایمرجنسی دروازہ بند کرکے مسافر سیٹ لگا دی تھی، ایمرجنسی راستہ نہ ہونے سے بس سے باہر کھلنے کا راستہ نہیں تھا۔

ابتدائی رپورٹ کے مطابق آگ لگنے پر فوری فائر بریگیڈ کو اطلاع دی گئی لیکن دو گھنٹے بعد فائر بریگیڈ پہنچی جبکہ اسٹیل مل سے پندرہ منٹ میں فائر بریگیڈ حادثے کی جگہ پہنچ سکتی تھی لیکن اسٹیل مل سے فائر بریگیڈ نہیں بھیجی گئی، حادثہ کسی دہشتگردی کا واقعہ نہیں بلکہ غفلت کا نتیجہ ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں