The news is by your side.

Advertisement

گرفتاریوں پرکسی کواعتراض نہیں کرنا چاہئیے، چوہدری ںثار

 اسلام آباد: وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثارعلی خان نے کہا ہے کہ عوامی تحریک اور تحریک ِ انصاف کو گرفتاریوں پراعتراض نہیں کرنا چاہئیے۔

ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی غلط شخص کو ہاتھ بھی نہیں لگایا جائے گا، گرفتارشدگان کی تصاویر پی ٹی وی اور پارلیمنٹ پرحملہ کرنے والوں کی تصاویر سے ملائیں جائیں گی اور اگر کسی کو غلط گرفتار کیا گیا تو اس غلطی کا ازالہ کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ پولیس سے گرفتاریوں میں غلطی ہوسکتی ہے ، لیکن کسی بھی شخص کے ساتھ ناانصافی نہیں کی جائے گی، اگر کوئی سمجھتا ہے کہ غلط آدمی گرفتار ہوا ہے تو وہ شواہد کے ساتھ پولیس سے رابطہ کرے۔

انہوں نے کہا کہ بھیرہ میں ابھی تک جلی ہوئی گاڑیوں کے ڈھانچے سڑک کے کنارے موجود ہیں اور اس سلسلے میں بھی دو افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔

چوہدری نثار نے مزید کہا کہ اسلام، آباد کو پانی فراہم کرنے والی مرکزی لائن سے پانی استعمال کیا جارہا ہے، چار مقامات سے بجلی کے کنڈے لے رکھے ہیں اور فضائی آلودگی میں بھی اضافہ ہورہا ہے۔

انہوں نے انکشاف کیا کہ کل ہونے والی گرفتاریوں میں گیارہ ریپیٹر گنیں ، گیس ماسک ، درجنوں غلیلیں اور پولیس سے چھینا گیا وائر لیس سیٹ برآمد کیا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ حساس اداروں کی جانب سے مصدقہ اطلاعات ہیں کہ دونوں دھرنوں کو نشانہ بنایا جائے گا، جس کی پیش بندی کے طورپرپولیس کی نفری بڑھائی گئی، بم ڈسپوزل اسکواڈ کو تعینات کیا گیا، اورحفظِ ماتقدم کے طور پر موٹرسائیکل کی ڈبل سواری پرپابندی عائد کی گئی۔

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ دھرنے کی سیکیورٹی پر موجود اسپیشل برانچ کے ایک افسرکو گھنٹوں حبس ِ بے جا میں رکھ کرتشدد کا نشانہ بنایا گیا جس سے مذکورہ افسراپنا ذہنی توازن کھو بیٹھا اورتاحال پمز اسپتال میں زیر ِعلاج ہے۔

چوہدری نثارکا کہنا تھا کہ انٹیلی جنس ذرائع سیکیورٹی بڑھانےکا مشورہ دے رہیں ہیں لیکن اگرحفاظت پر معمورافسران کے ساتھ ایسا سلوک روا رکھا گیا تو پھر کسی بھی قسم کے نقصان کی ذمہ داری دھرنے والوں پرعائد ہوگی۔

انہوں ایک بار پھر پاکستان عوامی تحریک اورپاکستان تحریک ِ انصاف کے سربراہوں کو مذاکرات کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ مذاکرات کے سوا کوئی راستہ نہیں ہے۔ انہوں نے حیرت کا اظہار کیا کہ عمران خان کو اگر اپنی ہی مذاکراتی ٹیم پر اعتبار نہیں ہے تو پھر بات کس طرح آگے بڑھے گی۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں