وفاقی وزیر مذہبی امور سردار یوسف نے کہا ہے کہ نجی حج ٹور آپریٹرز کی تنظیم چاہتی ہے جو گزشتہ حج پررہ گئے ان کو اگلے سال ترجیح دی جائے وزیراعظم نے بھی رہ جانے والے عازمین کو اگلے سال ترجیح دینے کا کہا ہے۔
تفصیلات کے مطابق عامرڈوگر کی زیرصدارت قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی مذہبی امور کا اجلاس ہوا جس میں وفاقی وزیر نے بتایا کہ سعودی عرب میں 365 ملین ریال پاکستانی پرائیویٹ عازمین حج کے موجود ہیں، نجی اسکیم کے 63ہزار عازمین حج کےسعودی عرب میں 365ملین ریال پڑے ہیں، گزشتہ سال کی طرح اگلےسال بھی قسطوں پر حج فیس جمع کرانے کی سہولت کی تجویز شامل ہے۔
انہوں نے کہا کہ رواں سال کا حج سابقہ سالوں سے شاندار رہا سعودی حکومت نے ایکسی لینسی ایوارڈ دیا ہے وزیراعظم نے بھی کامیاب حج پر مبارک اور شیلڈ دی، حج کے دوران کسی کو شکایت ہوئی تو فوری حل کی گئی، کابینہ میں جلد حج پالیسی پیش کریں گے اور ارکان تجاویز پیش کر سکتے ہیں۔
عامر ڈوگر نے نکتہ اٹھایا کہ تنقید برائے تنقید نہیں بلکہ حج کی سرکاری اسکیم کےبہترین انتظامات تھے، 67ہزار پرائیویٹ عازمین رہ گئے ان کامستقبل میں مسئلہ حل کیا جائے، کابینہ کمیٹی 67ہزار عازمین کے ساتھ جو ہوا اسے دیکھیں۔
وفاقی وزیر سردار یوسف نے جواب میں کہا کہ تکینکی غلطی کی وجہ سے 63ہزار لوگ رہ گئے تھے وزیر اعظم نے تحقیقات کے لئے کمیٹی بنائی ہوئی ہے جس کی رپورٹ تیار ہو جائے تو وہ کمیٹی میں پیش کر دیں گے۔
اب تک 313,000 افراد حج 2026 کے لیے اپنی رجسٹریشن مکمل کر چکے ہیں تاہم حج اخراجات اور دیگر شرائط و ضوابط کا اعلان حج پالیسی کے مطابق الگ سے کیا جائے گا۔
یاد رہے حج 2026 کے لیے عازمین کی قبل از وقت رجسٹریشن لازمی قرار دی گئی تاہم کوئی فیس ادا نہیں کرنی ہوگی۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


