site
stats
انٹرٹینمںٹ

گلو کارہ ملکہ پکھراج کو بچھڑے گیارہ برس بیت گئے

کراچی: نامور گلو کارہ ملکہ پکھراج کو بچھڑے گیا رہ برس بیت گئے۔

غزل، راگ اور گیت گا ئیگی کا ذکر ہو اور ملکہ پکھراج کا نا م نہ گو نجے بھلا کیسے ممکن ہے، ملکہ پکھراج کا شمار ان کلا کاروں میں ہوتا ہے جن کی آواز کا جادو آج بھی شائقین مو سیقی کو اپنے سحر میں جکڑے ہو ئے ہے۔

ملکہ پکھراج نے حفیظ جالندھری کی بہت سی غزلیں اور نظمیں گائیں جن میں سے کچھ بہت مشہور ہوئیں، خاص طور پر: ’ابھی تو میں جوان ہوں‘۔ ملکہ پکھراج راگ پہاڑی اور ڈوگری زبانوں کی لوک موسیقی کی ماہر تھیں۔

چالیس کی دہائی میں ان کا شمار برصغیر کے صف اول کے گانے والوں میں ہوتا تھا ،وہ ٹھمری کے رنگ میں غزل گاتیں تو سامعین سر دھنتے۔

ملکہ پکھراج 1912میں جموں کشمیر کے گا ؤں میر پور میں پیدا ہو ئیں ملکہ پکھراج 9برس تک مہا راجہ ہری سنگھ کے دربار سے وابستہ رہیں ملکہ پکھراج نے راگ پہا ڑی کو نئی جہت دی ملکہ پکھراج4فروری2004کو انتقال کرگئیں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top