The news is by your side.

Advertisement

جمہوریت کی خاطرحکومت کے ساتھ ہیں، حاجی عدیل

اسلام آباد : پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں اے این پی کے سینیٹر حاجی عدیل نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ جمہوریت کی خاطر حکومت کے ساتھ ہیں لیکن حکومت کہیں نظرنہیں آرہی۔

سینیٹرحاجی عدیل کا کہنا ہے کہ دھرنے والے پولیس اہلکاروں کی تلاشی لے رہےہیں، حکومت کو کیسے یقین دلائیں کہ ہم اُن کے ساتھ ہیں۔

حاجی عدیل نے اس بات کا اعتراف کیا کہ پاکستان کی نوجوان نسل موروثی سیاست کا خاتمہ چاہتی ہے، حاجی عدیل نے کہا کہ پارلیمنٹ کے باہر ہونے والا دھرنا سیاسی ہے اُس وقت سے ڈریں جب اس ملک کا غریب اٹھے گا اور پھر یہ ایوان بھی کچھ نہیں کر سکے گا۔

حاجی عدیل نے پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے آزادی مارچ اور دھرنے کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا  کہ ہماری فوج دہشت گردوں کے خلاف لڑ رہی ہے، ایسے میں عمران خان بھی طالبان خان کا رول ادا کر رہے ہیں۔

 حاجی عدیل نے کہا کہ باغیوں کی بات کی جاتی ہے، لیکن ہماری تاریخ تو باغیوں سے بھری پڑی ہے، انھوں نے سوال کیا کہ کیا بلے شاہ باغی نہیں تھے؟ کیا خوشحال خان خٹک مغلوں کے خلاف باغی نہیں تھے؟ پارٹیاں بدلنے سے کوئی باغی نہیں کہلاتا، اصل بغاوت پارٹی میں رہ کر ہوتی ہے

انھوں نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایئر کنڈیشنڈ کنٹینر میں رہ کراور پھر چند گھنٹوں کے لیے گھر جاکر اپنے آپ کونظام کے خلاف باغی کہنا غلط ہے، انقلاب بلٹ پروف گاڑیوں اور کنٹینرمیں بیٹھ کر نہیں آتا۔

انھوں نے عوامی تحریک پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ طاہرالقادری تیس ہزارگرفتارافراد کے نام و پتے بتائیں، ہم رہا کرادیں گے۔ دھرنے والوں کو وزیراعظم کےاستعفےکو انا کا مسئلہ نہیں بنانا چاہیے۔

پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے اے این پی کے رہنماحاجی عدیل کا کہنا تھا کہ ہم چوردروازوں سے پارلیمنٹ آتے ہیں اور چوردروازوں سے ہی واپس جاتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ مجھے اس موقع پر بہادر شاہ ظفر یاد آگئے، جن کی حکومت صرف محل میں تھی اور باہرکمپنی کی حکومت تھی، یہ کیسی حکومت ہے کہ باہر دہشت گرد کھڑے ہیں اورلوگوں اور گاڑیوں کو وہ چیک کر رہے ہیں۔

حاجی عدیل کا کہنا تھا کہ پاکستان ایک آزاد ملک ہے اور اس کی پارلیمنٹ بھی آزاد ہے، لیکن سپریم کورٹ کے احکامات پرعمل نہیں ہورہا۔

ان کا کہنا تھا کہ سندھ، پنجاب اور بلوچستان میں خاندان حکومت کر رہے ہیں، نئی نسل موروثی سیاست کو پسند نہیں کرتی اور ہمیں نظام اور رویوں کو تبدیل کرنا پڑے گا۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں