کراچی : شہر قائد میں گزشتہ دنوں پارک سے لاپتہ ہونے والا 3 سالہ بچہ انس بالآخر 4 روز بعد مل گیا، بچہ اغواء ہوا تھا یا گمشدہ یہ بات تاحال معمہ بنی ہوئی ہے۔
اے آر وائی نیوز کے کرائم رپورٹر کی رپورٹ کے مطابق بچے کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ بچہ انس جن لوگوں کے پاس تھا انہوں نے ویڈیو کال پر بات کروائی اور بتایا کہ انہوں نے بچہ اغواء نہیں کیا بلکہ وہ غلطی سے اسے لے گئے تھے۔
انہوں نے بچے کے چچا کو ڈائریکٹ کال کی، تحقیقات کی جارہی ہیں کہ بچے کے چچا کا نمبر کالر کے پاس کیسے تھا، جان پہچان کے لوگ ہیں یا پھر انس کو اغوا کیا گیا؟۔
رپورٹ کے مطابق 11 جنوری کو ایک شخص اپنے خاندان کے 14 بچوں کو سیر و تفریح کی غرض سے نارتھ ناظم آباد بلاک ایف فتح پارک لے کر گیا تھا جہاں سے یہ بچہ لاپتہ ہوا۔
کل تک یہ بات واضح نہیں ہوسکی تھی کہ بچے کو لے جانے والے اسے کیوں لے کر گئے اور بچے کے چچا کا نمبر ان کے پاس کیسے آیا جس پر رابطہ کرکے بچہ واپس دیا گیا۔
دوسری جانب ایس ایس پی انویسٹی گیشن ایسٹ محمد عثمان سدوزئی نے آج اے آر وائی نیوز کے پروگرام باخبر سویرا میں اس سارے معاملے کی اصل صورتحال واضح کی۔
انہوں نے بتایا کہ بچہ لے جانے والوں نے گھر جانے سے پہلے پارک کی سیکیورٹی انتظامیہ سے رابطہ کرکے اپنا فون نمبر لکھوا دیا تھا اور بچہ اس لیے حوالے نہیں کیا کہ کہیں غلط لوگوں کے ہاتھ نہ لگ جائے۔
ایس ایس پی انویسٹی گیشن کے مطابق بچے کے والدین نے جب بچے کی گمشدگی سے متعلق پمفلٹ چھپوائے اور سوشل میڈیا پر پوسٹس کیں جسے پڑھ کر بچہ لے جانے والوں نے فون پر رابطہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ واقعے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔


