The news is by your side.

Advertisement

تین سالہ شامی بچے کے باپ نے مرحوم بیٹے کی یاد میں اس کا نام زندہ کردیا

استنبول : تارکین وطن کے بحران کے دوران یونانی ساحل سمندر پر ہلاک ہونے والے تین سالہ شامی بچے ایلن کردی کے والد نے اپنے بیٹے کی وفات کے بعد نومولود بیٹے کا نام ایلن رکھ دیا۔

تارکین وطن کے بحران کے دوران یورپ پہنچنے کی کوشش کے دوران تین سالہ ایلن کرد کی درد ناک موت پر پوری دنیا نے غم و غصہ کا اظہار کیا تھا، متوفی ایلن کے والد 45 سالہ عبداللہ کرد کی اہلیہ نے شام کے شہر کوبانی میں ایک بیٹے کو جنم دیا ہے۔

شامی بچے ایلن کردی کی یاد میں ساحل سمندر پر بنایا جانے والا مجسمہ

عبداللہ کرد نے اپنے نومولود بیٹے کا نام بھی ایلن رکھا ہے، ننھے ایلن کے والدین کا کہنا ہے کہ اب تارکین وطن کے جہاز میں سوار ہوجائیں گے۔

عبداللہ کرد نے اپنی بیوی اور دو بچوں کو ڈوبتے ہوئے دیکھا جب دو ستمبر2015 کو یونان کے کوس کے ساحل سے ان کی بھاری بھرکم کشتی ڈوب گئی تھی۔

یونان کے ساحل پر پڑی ایلن کی لاش کی ایک تصویر نے پوری دنیا میں کہرام مچا دیا تھا، جس کے بعد یہ تصویر حکومت کی طرف سے کارروائی اور تارکین وطن کی مدد کرنے والے خیراتی اداروں کو عطیات دینے میں اضافے کا سبب بنی۔

عبداللہ کرد اس سانحے کے بعد شام، ترکی سرحد پر واقع شہر کوبانی چلا گیا تھا جہاں اس نے دو سال قبل فائز نامی خاتون سے دوسری شادی کی تھی۔

سوشل میڈیا پر45سالہ عبداللہ کردی اپنے نوزائیدہ بیٹے کو گود میں لیے ہوئے ایک تصویر شیئر کی ہے، جس کے پیچھے سمندر میں ڈوب کر مرنے والے اس کے تین سالہ بیٹے ایلن کی تصویر بھی نمایاں ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں