The news is by your side.

Advertisement

لاہور : رکشے سے برآمد ہونے والے مینڈکوں کی اصل کہانی سامنے آگئی

لاہور : رکشے سے پکڑے جانے والے 5 من مینڈک نجی سائنس لیب میں طلبہ کیلئے سپلائی کیے جانے تھے، محکمہ وائلڈ لائف کی چیکنگ کے بعد مینڈک دریا میں چھوڑ دیئے گئے۔

تفصیلات کے مطابق لاہور میں رکشے سے برآمد ہونے والے پانچ من مینڈکوں کے بارے میں اصل کہانی سامنے آگئی۔

اس حوالے سے پولیس حکام کا کہنا ہے کہ مذکورہ مینڈک نجی سائنس لیب میں طلبہ وطالبات کیلئے سپلائی کیے جانے تھے، مینڈک اسمگل کرنے کے شواہد نہیں ملے۔

محکمہ وائلڈ لائف کی چیکنگ کے بعد مینڈک دریا میں چھوڑ دیئے گئے، محکمہ دوسری جانب وائلڈ لائف انتظامیہ کا کہنا ہے کہ پکڑے گئے افراد کے پاس میڈیکل سپلائی کا لیٹر بھی موجود تھا۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز ایک اخبار میں شائع ہونے والی خبر میں انکشاف کیا گیا تھا کہ لاہور سے بھاری تعداد میں پکڑے جانے والے مینڈکوں کا گوشت برگر اور شوارموں میں استعمال کیا جانا تھا، جس کے بعد سوشل میڈیا پر مذاق ایک طوفان پرپا ہوگیا لوگوں نے طرح طرح کی میمز بنا کر شیئر کرنا شروع کردیں۔

بعد ازاں تحقیقات کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ جن دو افراد کو پولیس نے مینڈک اسمگل کرتے ہوئے پکڑا تھا وہ دراصل یہ مینڈک اکبری روڈ پر واقع ایک لیبارٹری کو دینے جارہے تھے۔

یہ لیبارٹری ان لوگوں سے مینڈک منگوانے کے بعد انہیں لاہور سمیت دیگر شہروں کے مختلف میڈیکل کالجز کو سپلائی کرتی ہے جہاں طلبہ ان پر تجربات کے ذریعے انسان کے جسم کا اندرونی نظام سمجھتے ہیں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں