The news is by your side.

Advertisement

گلگت بھی ماحولیاتی تبدیلیوں کے لپیٹ میں آنے لگا

گلگت: پاکستان کے پرفضا مقام گلگت میں سلائیڈنگ اور گلیشئرپھٹنے کے باعث دو مصنوعی جھیلیں بن گئیں ہیں، مقامی آبادی نے اسے خطرہ قرار دیتے ہوئے امدادی کاموں کا آغاز کردیا ہے۔

ضلعی انتظامیہ کے مطابق گذشتہ روز وادی نلتر میں برفانی تودہ دو حصوں میں تقسیم ہو کر نلتر نالے کے مقام پر آگرا اور اس سے پانی کا بہاؤ رُک جانے سے کم از کم دو مقامات پر مصنوعی جھیلیں بن گئیں۔

عینی شاہدین کے مطابق برفانی تودہ گرنے سے قبل گلیشیئر پر آسمانی بجلی گری تھی، یہاں ایسی آواز آئی جیسے گولی چلتی ہے۔ پھر ایک منٹ سے بھی کم وقت میں وہ برفانی تودہ نیچے آگرا۔

گلگت بلتستان ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل ولی خان کے مطابق نلتر نالے میں گِرنے والے برفانی تودے نے ست رنگی جھیل کے پانی کا بہاؤ دو جگہوں سے روک کر مصنوعی جھیل کی شکلیں اختیار کرلی ہیں، ایک مقام پر تو تھوڑی دیر بعد پانی کا بہاؤ شروع ہوچکا ہے جبکہ دوسرے مقام پر پانی رُکا ہوا ہے۔

مقامی انتظامیہ کے مطابق واقعے میں ایک چراہ گاہ مکمل طور پر تباہ ہوچکی ہے جبکہ دوسری کو جزوی نقصان پہنچنے کی اطلاع ہے، ان چراہ گاہوں میں اس وقت مال مویشی بھی موجود تھے جبکہ چار افراد کے دبنے کی بھی اطلاعات ہیں، جن کی تلاش کے لئے تمام وسائل بروئے کار لائے جارہے ہیں اس کے علاوہ گلیشیئر پھٹنے کے باعث راستے میں آنے والے بلند و قامت قدیم درخت بھی گر چکے ہیں۔

ضلعی انتظامیہ نے برفانی تودے سے بننے والی جھیل سے پانی کے اخراج کی کوششیں تیز کردی گئی ہیں، ڈی ڈی ایم اے، ریسکیو ڈبل ون ڈبل ٹو، محکمہ تعمیرات، این ایل سی اور مقامی رضاکاروں کی ٹیمیں امدادی کارروائیاں میں مصروف ہیں ۔

ضلعی انتظامیہ کا موقف ہے کہ ابتدائی اندازوں کے مطابق یہ ماحولیاتی تبدیلی کا شاخسانہ ہے، کیونکہ ان علاقوں میں چھوٹے بڑے گلیشیئر موجود ہیں جو ماحولیاتی تبدیلی کی وجہ سے کبھی زیادہ پگھلتے ہیں اور کبھی کم۔

Comments

یہ بھی پڑھیں