The news is by your side.

Advertisement

کراچی سے چھینی گئیں لگژری گاڑیاں کہاں استعمال ہوتی ہیں؟ تہلکہ خیز رپورٹ منظر عام پر

کراچی: شہر قائد سےچھینی گئیں کروڑوں مالیت کی لگژری گاڑیاں کہاں ہیں؟، اے آر وائی نیوز کی رپورٹ نے تہلکہ مچادیا ہے۔

اے آر وائی نیوز کے نمائندے نذیر شاہ کے مطابق کراچی سے بین الصوبائی کار اسنیچنگ کے بڑے نیٹ ورک کا سراغ لگالیا ہے، ایس ایس پی اے وی ایل سی بشیربروہی کی ذاتی کوششوں کے باعث اس منظم گروہ کا پردہ چاک ہوا۔

رپورٹ کے مطابق کراچی سے چھینی گئی کروڑوں مالیت کی لگژری گاڑیاں او جی ڈی سی ایل اور پی پی ایل میں کرائےپر چلنےکاہو شربا انکشاف ہوا ہے، بین الصوبائی کار لفٹر گروہ نے گاڑیاں او جی ڈی سی ایل اور پی پی ایل کو کرائےپر دیں اور ان کمپنیوں سے فی گاڑی1لاکھ20ہزارتا1لاکھ90ہزار کرایہ وصول کیا جاتا ہے۔

بین الصوبائی کار اسنیچنگ کا بھانڈا شارع نور جہاں سے دہشتگردی میں ملوث منظور عرف بافو عرف شوکت نے پھوڑا، جس نے دوران تفتیش اہم راز اگلے، مبینہ دہشت گرد نے اپنے بیان میں بتایا کہ کراچی سے مہنگی ترین گاڑیاں چھین کر انہیں ڈیرہ بگٹی پہنچایا جاتا ہے، یہاں گاڑی کا رنگ،کاغذ اور انجن چیسز نمبر تبدیل کردیاجاتاہے۔

مبینہ دہشت گرد نے سنسنی خیز انکشاف کیا کہ ڈیرہ بگٹی میں ان قیمتوں گاڑیوں کے خریدار موجود ہیں، دھندے میں سیاسی جماعت کے رہنماؤں سےلےکر با اثرا فراد تک ملوث ہیں، کار لفٹر گروہ بلوچستان میں مخصوص خریدار کو گاڑیاں فروخت کرتے ہیں، کار اسنیچراور خریداروں میں گٹھ جوڑ ہے اور خریدار بذریعہ کنٹریکٹ چھینی ہوئی گاڑی مذکورہ کمپنیوں کو کرائے پر دیتا ہے۔

اے آر وائی نیوز کے مطابق دہشتگردی و دیگر کیسز میں ملوث انتہائی مطلوب ملزم کے انکشاف پر تحقیقات کی گئیں، ایس ایس پی بشیربروہی نے معاملےکی تہہ تک پہنچنےکےلیےآئی جی سندھ کوخط لکھا۔

رپورٹ کے مطابق آئی جی سندھ مشتاق مہر نے محکمہ داخلہ کے ذریعےچیف کمشنر اسلام آباد کو خط لکھا، چیف کمشنر کی جانب سے سیکشن آفیسر محکمہ داخلہ اسلام آباد کو خط لکھا گیا جس پر محکمہ داخلہ بلوچستان نے ڈپٹی کمشنر ڈیرہ بگٹی کو خط لکھ کرجواب طلب کیا اور متعلقہ کمپنیوں سے5سال میں کرائے پر حاصل گاڑیوں کی تفصیل طلب کرلی گئیں ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں