site
stats
صحت

ڈائٹنگ یا ورزش کے بغیر موٹاپا کم کریں

انسان کتنا ہی خوش شکل کیوں نہ ہو لیکن اگر اس پر موٹاپا غالب آجائے تو اس کی شخصیت کو گرہن لگ جاتا ہے، آج کل کا دور میں بڑھا ہوا پیٹ ایک المیہ ہے، جس نے ہر مرد اور عورت کو پریشان کر رکھا ہے۔

اگر آپ موٹاپے سے پریشان ہیں تو اس سے نجات کے لیے تصور کیا جاتا ہے کہ ڈائٹنگ یا ورزش کرکے وزن کم کیا جاسکتا ہے، اگرچہ یہ دونوں ہی طریقے ٹھیک ہیں تاہم وزن میں کمی کا کوئی جادوئی حل نہیں بلکہ طرز زندگی میں تبدیلی ہی جادو کرسکتی ہے، جبکہ اپنے جسم کیلئے صحت بخش غذا کا استعمال بھی بہترین حل ہے۔

سبز چائے

سبز چائے کا استعمال پیٹ کم کرنے میں بہت معاون ثابت ہوتا ہے، سبز چائے میں موجود اجزاء جسم کی فالتو چربی کم کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ یہ ناصرف جسم کی چربی کم کرتی ہے بلکہ جسم کے زہریلے مادے بھی نکال دیتی ہے۔

green-tea

یہ گرم مشروب ہماری غذا میں شامل گلوکوز سے توانائی خارج کرنے میں بھی مددگار ثابت ہوتا ہے جس کے نتیجے میں چربی کو گھلانے میں مدد ملتی ہے۔

چکوترا

چربی کے خلاف مزاحمت کرنے والی منفرد کیمیائی خصوصیات کی بناءپر یہ پھل موٹاپے پر قابو پانے کے لیے بہترین ہے۔

چکوترے میں ایک ایسا اینٹی آکسیڈینٹ موجود ہوتا ہے، جو جسم میں انسولین کی مقدار کو متوازن رکھتا ہے۔ جس کے نتیجے میں جسم میں چربی کو جمع ہونے سے روکنے میں مدد ملتی ہے اور جسمانی وزن میں کمی آتی ہے۔

fruit

مچھلی

ویسے تو تمام مچھلیوں کی اقسام انتہائی مفید ہیں لیکن اگر آپ سولمن اور ٹونا مچھلی کا استعمال کریں تو یہ آپ کے جسم کی اضافی چربی کو پگھلا کر آپ کے پیٹ کو کم کرتی ہے، اس مچھلی میں پایا جانے والااومیگا تھری آپ کے پٹھوں کو مضبوط بناتا  ہے۔

سولمن میٹھے پانی کی مچھلی ہوتی اور پروٹین ، فیٹس اور اہم غزائی اجراء سے بھرپور ہوتی ہے جبکہ ٹونا نمکین پانی کی مچھلی ، اس میں فیٹ نہ ہونے کے برابر پایا جاتا ہے۔

fish

دودھ اور اس سے بنی اشیاء

دودھ کیلشیئم کے حصول کا اہم ذریعہ تو ہے ہی تاہم اس میں ایسے اجزاءکی بھی تعداد کم نہیں جو جسمانی چربی کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ دن میں تین بار دودھ یا اس سے بنی اشیاءکا استعمال توند وغیرہ سے چربی گھلانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے جبکہ موٹاپے کو کم کرنے کی رفتار کوبھی بڑھا دیتا ہے۔

milk-dairy-products

بیریز

بلوبیریز میں کیلوریز کم اور ریشہ زیادہ مقدار میں پایا جاتا ہے، اس لئے بیریز کو پیٹ کی چربی کم کرنے کے لیے بہترین مانا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ بلو بیری کا جوس دل کے امراض اور شوگر کے خطرات بھی کم کرتا ہے۔

barries

بادام

خشک میوہ تو ہر ایک کو ہی پسند آتا ہے خاص طور پر بادام، پستے اور اخروٹ وغیرہ یہ سب فیٹی ایسڈز سے بھرپور ہوتے ہیں جو جسم کی چربی کم کرنے میں مدد دیتے ہیں اور ان کے استعمال سے پیٹ بھی نہیں بڑھتا جبکہ جسمانی توانائی کا ذخیرہ بڑھتا چلا جاتا ہے جبکہ ان کا استعمال دیگر کئی امراض جیسے بلڈ پریشر اور امراض قلب وغیرہ سے بھی تحفظ دیتے ہیں۔

تحقیق میں بتایا گیا ہے جو لوگ میٹھی اشیاءکے مقابلے میں باداموں کو ترجیح دیتے ہیں ان کے پیٹ میں جمع ہونے والی چربی جلد گھلتی ہے اور کمر کی موٹائی میں کمی آتی ہے۔

almond-nuts

انڈے

انڈے پروٹین سے بھرپور غذا ہے ، یہ غذا وزن کم کرنے میں انتہائی سازگار ہوتی ہے، اس میں پروٹین اور کیلشیم کافی زیادہ مقدار میں ہوتا ہے اور یہ انسان کے لئے مکمل غذا ہے،اس لئے اپنے ناشتے میں انڈے کا استعمال ضرور کریں۔

ایک تحقیق کے مطابق ناشتے میں انڈوں کا استعمال دوپہر کے کھانے میں کیلوریز کا استعمال 22 فیصد تک کم کردیتا ہے جبکہ دن بھر میں بھی بھوک کم لگتی ہے۔

egg

پانی

آپ جتنی بھی اچھی غذا کھائیں پانی کے بغیر اس کے اجزاءجسم کا حصہ نہیں بن سکتے۔ یہ اجزاءکے نقل و حمل کے علاوہ خلیات کو آکسیجن پہنچانے کا کام بھی کرتا ہے۔ اگر آپ ضرورت سے کم پانی پیتے ہیں تو بہترین غذا کھانے کے باوجود دن بھر تھکاوٹ اور سستی کا شکار رہیں گے، لہٰذا ضرورت کے مطابق پانی کا استعمال یقینی بنائیں۔

wa

لال مرچ

لال مرچ کا استعمال بھی موٹاپے پر قابو پانے میں کافی مددگار ثابت ہوتا ہے۔ مختلف تحقیقی رپورٹس میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ جلن پیدا کرنے والی مرچیں مرد و خواتین کے جسموں سے چربی گھلانے میں مددگار ثابت ہوتی ہیں، جبکہ یہ میٹابولک شرح بھی بڑھا دیتی ہیں جس سے کیلیوریز جلنے کی رفتار بڑھ جاتی ہے۔

chilli

 سبز پتوں والی سبزیاں

سبز پتوں والی سبزیاں مثلاََ پالک ، سلاد کے پتے ، بند گوبھی شامل ہیں ، ہری سبزیوں میں پروٹین کی وافر مقدار پائی جاتی ہے، جو وزن کم کرنے میں مدد دیتی ہے۔

اگرچہ پالک چربی کو جلاتا نہیں مگر یہ جسمانی وزن میں ضرور مدد فراہم کرتا ہے۔ اس میں کیلیوریز کی مقدار بہت کم ہوتی ہے اور تازہ پالک کا استعمال جسم کو اضافی فائبر فراہم کرتا ہے جس سے پیٹ جلد بھرنے کا احساس ہوتا ہے اور موٹاپے کا خطرہ کم ہوجاتا ہے۔

green

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top