The news is by your side.

Advertisement

پاکستان کو کچرے کا ڈھیر بننے سے بچانے کے لیے کوشاں 10 سالہ طالبہ

پاکستان اور خصوصاً شہر کراچی کچرے کا ڈھیر بنتا جارہا ہے جس سے ماحولیاتی آلودگی میں بے حد اضافہ ہورہا ہے۔ تاہم سرگودھا کی 10 سالہ غیر معمولی بچی اپنے ملک کو صاف ستھرا بنانے کے لیے کوشاں ہیں۔

صوبہ پنجاب کے شہر سرگودھا سے تعلق رکھنے والی 10 سالہ زیمل عمر نے صرف 6 سال کی عمر میں اپنے ارد گرد موجود گندگی اور کچرے کو دیکھ کر بے زاری اور کراہیت کا اظہار کرنا شروع کردیا۔

آہستہ آہستہ اسے احساس ہوا کہ یہ مسئلہ صرف اس کے علاقے یا شہر کا نہیں بلکہ پورے ملک کا ہے، اور تب ہی اس نے اپنے ننھے ہاتھوں سے اس کچرے کے ڈھیر کی صفائی کرنے کا عزم کیا۔

مزید پڑھیں: زمین پر کچرے کی نئی تہہ

ننھی سی زیمل کو یہ معلومات بھی بہت جلد ہوگئیں کہ پلاسٹک کی تھیلیوں میں پھینکا جانے والا کچرا ہی اصل مسئلے کی جڑ ہے کیونکہ پلاسٹک زمین میں تلف نہیں ہوتا اور یہی بڑے پیمانے پر کچرا پھیلانے کا سبب بنتا ہیں۔

وہ کہتی تھی، ’لوگ ان کا بہت بے دردی کے ساتھ استعمال کر کے انہیں پھینک دیتے ہیں اور انہیں دوبارہ استعمال کرنے کا نہیں سوچتے‘۔

زیمل کے ننھے ذہن نے اس کچرے کو ٹھکانے لگانے کا حل سوچنا شروع کیا اور تب ہی اس کے ذہن میں پرانے اخبارات کا خیال آیا۔

آپ جانتے ہوں گے کہ کاغذ درختوں سے حاصل کی جانے والی گوند سے بنتے ہیں اور اخبارات کے لیے استعمال ہونے والے اخبارات ایک سے 2 بار استعمال کے بعد پھینک دیے جاتے ہیں۔

زیمل نے انہی اخبارات سے کچرے کے بیگز بنانے کا سوچا۔ ’زی بیگز‘ کے نام سے یہ کاغذی تھیلے بہت جلد لوگوں میں مقبول ہوگئے اور اس کی انتہائی کم قیمت کی وجہ سے لوگوں نے انہیں خریدنا بھی شروع کردیا۔

اب جبکہ زیمل اپنی تعلیم کے فقط ابتدائی مراحل میں ہی ہے، وہ ابھی سے لوگوں میں تحفظ ماحول اور آلودگی سے بچنے کا شعور پیدا کرنے کی کوششیں کر رہی ہے۔

زیمل بتاتی ہے کہ اسکول کے ساتھ بیگز بنانے کا کام نہایت مشکل ہے چنانچہ یہ کام وہ صرف ویک اینڈ کو انجام دیتی ہے اور اس میں اس کے اہلخانہ اور کزنز بھی اس کا ہاتھ بٹاتے ہیں۔

اس کم عمر ترین سماجی انٹر پرینیئور کو اب تک پاکستان اور مشرق وسطیٰ میں 2 ایوارڈز سے بھی نوازا جا چکا ہے۔

زیمل اپنے کام اور آگاہی مہم کو نہ صرف پاکستان بلکہ پوری دنیا میں پھیلانا چاہتی ہے اور اس کے لیے بے حد پرعزم ہے۔ صرف یہی نہیں بلکہ زیمل کاغذی تھیلوں کی فروخت سے حاصل ہونے والی رقم کو بھی غریب بچوں میں تقسیم کردیتی ہے۔

کچرے کے نقصانات کے بارے میں مزید مضامین پڑھیں


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں