The news is by your side.

پاکستان تحریکِ انصاف کے سو 100 دن کیسے رہے

پاکستان تحریک ِ انصاف کی حکومت وزیر اعظم عمران خان کی سربراہی میں اپنے ابتدائی سو روز مکمل کرچکی ہے، حکومت کی جانب سے دعویٰ کیا گیا تھا کہ آئندہ سو روز میں عوام کو ملک میں تبدیلی نظر آئے گی۔

ہم نے اس سلسلے میں وفاقی حکومت کی جانب سے لیے گئے فیصلوں کی ایک ٹائم لائن تیار کی ہے جس کے ذریعے آپ کو یہ جاننے میں مدد ملے گی کہ گزشتہ سو دنوں میں حکومت نے کن معاملات پر اپنی توانائیاں صرف کی ہیں اور وہ اپنے وعدے نبھانے میں کہاں تک کامیاب رہے۔

ابتدائی سو دن میں ہم نے دیکھا کہ وزیراعظم نے اپنی حلف برداری سے قبل ہی حکومتی معاملات میں اسراف کی روک تھام کرنے اور کفایت شعاری پر مبنی اقدامات کرنا شروع کردیے جیسا کہ حلف برداری کی تقریب کے شرکاء کو سوائے پانی کے اور کچھ پیش نہ کرنے کا حکم تھا۔

وزیراعظم نے کابینہ کے پہلے اجلاس میں ہی صدر ، وزیراعظم اور دیگر وزرا کے فرسٹ کلاس میں سفر کرنے پر پابندی عائد کی اور وزرا کو صوبدیدی فنڈ استعمال کرنے سے بھی روک دیا گیا، ہم نے دیکھا کہ وزیراعظم ہاؤس میں رکھی گئی بھینسیں اور اضافی گاڑیاں بھی نیلام کردی گئیں جبکہ ایوانِ وزیراعظم کو اعلیٰ تعلیمی ادارے میں تبدیل کرنے کی پالیسی بھی تیار ہونا شروع ہوچکی ہے۔

خارجہ پالیسی


سابق حکومت کے دور کے زیادہ تر حصے میں ملک ایک کل وقتی وزیرِ خارجہ سے محروم رہا جس سے عالمی بساط پر حکومت کو بے پناہ نقصان اٹھانا پڑا۔ نئی حکومت نے شاہ محمود قریشی کو وزیر خارجہ منتخب کیا اور ہم نے دیکھا کہ توہین آمیز خاکوں سے لے کر امریکی صدر کے پاکستان مخالف ٹویٹس کا جواب دینے تک موجودہ حکومت ایک سخت موقف اختیار کرتی دکھائی دی۔

معاشی اقدامات


موجودہ حکومت کے لیے سب سے بڑا چیلنج معاشی مسائل پر قابو پانا ہے ، جس کے لیے ایک ضمنی فنانس بل پیش کیا گیا ۔ بجلی اور گیس کی قیمتوں میں ردو بدل کیا گیا اور حکومت اپنے وعدوں کے برخلاف قیمتوں میں اضافہ کرنے پر مجبور نظرآئی۔ اسی اثنا میں وزیراعظم نے پاکستان کے سعودی عرب ، یو اے ای ، چین اور ملائیشیا جیسے دوست ممالک کے دورے کیے اور اپنے ہر دورے میں وہ ملک کو معاشی بحران سے نکالنے کے لیے کچھ نہ کچھ اقتصادی پیکج حاصل کرنے میں کامیاب رہے ۔ تحریک انصاف کی حکومت کے اس قدم کی وجہ سے پہلی بار کوئی حکومت اپنے قیام کے فوراً بعد آئی ایم ایف سے ہر ممکن شرط پر قرضہ لینے کے لیے آمادہ نظر آنے کے بجائے باقاعدہ مذاکرات کرتی نظر آئی۔

عوامی مسائل


پاکستان میں ہم نے پہلی بار دیکھا کہ کوئی وزیراعظم اپنی پہلی تقریر میں ان موضوعات پر بات کررہا ہے جن کا تعلق براہ راست عوام سے ہے ، جیساکہ غذائی قلت کا ایشو اور اسی طرح کے کئی دیگر ایشوز بھی ایڈریس کیے گئے ہیں۔ عوام کو صحت مند اور صاف ستھرا اندازِ زندگی فراہم کرنے کے لیے حکومت کی جانب سے کلین اینڈ گرین پاکستان مہم کا آغاز بھی کیا گیا۔

انکروچمنٹ یقیناً کسی بھی شہری کی ترقی کی راہ میں منفی انداز میں حائل ہوتی ہے جس کے سدباب کے لیے ملک کے کئی شہروں میں اینٹی اینکروچمنٹ آپریشن کیے گئے بالخصوص شہرقائد کراچی ، جہاں یہ مسائل انتہائی سنگین تھے وہاں بڑے پیمانے پر تجاوازت کے خلاف آپریشن جاری ہے ۔

عوام کو سفری سہولیات فراہم کرنے کے لیے شیخ رشید کی قیادت میں وزارتِ ریلوے نے سو دن میں نہ صرف یہ کہ دس نئی ٹرینیں چلانے کا ہدف بھی مکمل کرلیا ، بلکہ یہ زیادہ منافع بھی کمانا شروع کردیا ہے۔

پانی کی قلت


 

عالمی ادارے ایک عرصے سے خبردار کررہے ہیں کہ سنہ 2025 تک پاکستان میں آبی قلت کے مسائل شدید ترین ہوجائیں گے ، اس مقصد کے لیے وزیراعظم اور چیف جسٹس آف پاکستان نےایک مشترکہ فنڈ قائم کیا جس میں ملک بھر سے اور بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے بڑی تعداد میں عطیات بھیجنے کا سلسلہ جاری ہے ۔ انسانی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے کہ 16 سو ارب ڈالر جیسی خطیر رقم کا کوئی منصوبہ عوامی تعاون اور اشتراک سے تیار کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

دوسری جانب صوبوں کے درمیان پانی کے مسائل حل کرنے کے لیے وزارتِ پانی نے پہلی بار ٹیلی میٹرز استعمال کرکے اس مسئلے کے حل کی راہ پر قدم رکھ دیا ہے اور امید ہے کہ جلد ہی صوبے پانی کی تقسیم کے مسائل کا حل تلاش کرلیں گے۔

عوام کو براہ راست جواب دہی


عوام کی شکایات سننے اور ا ن پر فوری جواب دہی کے لیے سٹیزن پورٹل قائم کیا گیا ہے جس کی مدد سے عوام اپنی شکایات ایک موبائل ایپ کے ذریعے درج کراسکتے ہیں ۔ اس ایپ کی مدد سے وفاقی حکومت کو ملک کے دور دراز علاقوں کے لوگوں کے مسائل براہ راست جاننے اور ان کے سدباب میں بھی مدد ملے گی۔

اس کے علاوہ بھی متعدد ایسے منصوبے منظرعام پر آئے جن کی مدد سے نئی حکومت کے آئندہ پانچ سال کی لائن آف ایکشن نظر آرہی ہے، ان سے ایک عام آدمی کو سمجھ آرہا ہے کہ بالاخر 7 دہائیوں کے انتظار کے بعد ملک میں ایک ایسی حکومت قائم ہوگئی ہے جو کہ براہ راست ان کے مسائل پر کام کررہی ہے۔

وزیراعظم عمران خان نے پاکستان کے عوام سے وعدہ کیا ہے کہ ابتدائی دو برس انتہائی مشکل ہیں ، عوام یہ دوسال کسی طرح گزار لیں اس کے بعد ان کی حکومت کی جانب سے کیے جانے والے معاشی اقدامات کے ثمرات عوام تک پہنچنا شروع ہوجائیں گے ۔

Comments

یہ بھی پڑھیں