اسلام آباد : ڈی جی ایف آئی اے عثمان انور نے برطانیہ میں 10 ہزار پاکستانی طلبا کا اسٹوڈنٹ ویزے کا غلط استعمال کر کے پناہ لینے کا انکشاف کیا۔
تفصیلات کے مطابق راجہ خرم نواز کی زیرِ صدارت قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کا اہم اجلاس منعقد ہوا۔
جس میں ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے ڈاکٹر عثمان انور نے ملک سے غیر قانونی طریقے سے بیرون ملک جانے والے افراد اور انسانی اسمگلنگ سے متعلق چونکا دینے والے اعداد و شمار پیش کر دیے۔
ڈی جی ایف آئی اے کا کہنا تھا کہ غیر قانونی طور پر بیرون ملک جانے والے افراد عالمی سطح پر ملکی بدنامی کا باعث بن رہے ہیں، جس پر یورپی یونین سمیت دیگر ممالک نے پاکستان کے ساتھ یہ معاملہ باضابطہ طور پر اٹھایا ہے۔
ڈاکٹر عثمان انور نے کمیٹی کو بتایا کہ برطانیہ جانے والے 10 ہزار پاکستانیوں نے اسٹوڈنٹس ویزے کا غلط استعمال کیا؛ یہ افراد ویزے پر وہاں گئے اور بعد میں پناہ مانگ لی۔
اسی طرح، بیلاروس جانے والے 580 پاکستانی وہاں پہنچ کر واپس نہیں آئے، جبکہ رواں سال آذربائیجان بھی 7 ہزار پاکستانی وزٹ ویزے پر گئے اور غائب ہو گئے۔ انہوں نے بتایا کہ لیبیا سے بھی 175 پاکستانیوں کو گرفتار کر کے واپس لایا گیا ہے۔
اجلاس میں انکشاف کیا گیا کہ انسانی اسمگلرز کی جانب سے اب ملائیشیا اور ازبکستان کے ذریعے اسمگلنگ کا نیا روٹ استعمال کیا جا رہا ہے۔
ایف آئی اے کی سخت مانیٹرنگ کے باعث سال 2025 میں بغیر دستاویزات سفر کرنے کی کوشش کرنے والے 39 ہزار 786 افراد کو آف لوڈ کیا گیا، جبکہ اسٹاپ لسٹ اور انٹرپول کے ریڈ نوٹسز کے باعث 3 ہزار سے زائد افراد کو پروازوں سے اتارا گیا۔
تاہم، ڈی جی ایف آئی اے نے بتایا کہ حکومتی اقدامات کے باعث بیرون ملک جانے والے منظم بھکاریوں کی تعداد میں 75 فیصد اور جعلی دستاویزات کے استعمال میں 31 فیصد تک نمایاں کمی آئی ہے۔


