site
stats
عالمی خبریں

گجرات مسلم کش فسادات کے 11 ملزمان کو 7 سال قید کی سزا

گجرات: ہندوستان کی ریاست گجرات میں 2002 میں ہونے والے مسلم کش فسادات میں سینکڑوں مسلمانوں کو قتل اور زندہ جلانے پر 11 ملزمان کو 7 سال کی قید سنا دی گئی ہے۔

تفصیلات کے مطابق 2002 میں بھارت کی ریاست گجرات کے علاقے احمد آباد کی گلبرگ سوسائیٹی میں ہندو انتہا پسندوں نے سینکڑوں مسلمانوں کو قتل اور ہزاروں مسلمان کو بے گھر کر دیا تھا،قتل ہونے والوں میں کانگریس کی مسلم رکن اسمبلی بھی شامل تھی۔

عالمی سطح پر بھارت کی بدنامی کا باعث بننے والے اس واقعہ میں ملوث مرکزی کردار سمیت 11 مجرموں کو 7 سال قید کی سزا سنا دی گئی ہے۔

gujrat2

بھارتی میڈیا کے مطابق سزا پانے والوں میں قتل عام کے مرکزی کردار اور انتہاپسند ہندو رہنما شامل ہیں۔

gujrat3

واضح رہے بھارت کی ریاست گجرات میں فروری اور مارچ 2002ء گودھرا ریل آتشزدگی سے 59 انتہاپسند ہندو ہلاک ہو گئے تھے،انتہا پسند تنظیموں نے اس واقعہ کا الزام مسلمانوں پر لگا یا جس کے بعد سرکاری آشیر باد میں مسلمانوں کا قتل عام کیا گیا۔

GUJRAT POST 2

انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق یہ مسلمانوں کی نسل کشی تھی،اس میں مسلم رکن پارلیمنٹ سمیت تقریباً 2500 مسلمانوں کو بے رحمی سے قتل کیا گیا یا زندہ جلا دیا گیا تھا،سینکڑوں مسلمان خواتین کی عصمت دری کی گئی،ان فسادات کے نتیجے میں ہزاروں مسلمان بے گھر ہوگئے تھے۔

GUJRAT POST 1

اس ہولناک سانحہ کا افسوسناک پہلو یہ تھا کہ ان فسادات کو روکنے کے لیے پولیس نے کوئی کردار ادا نہ کیا بلکہ گجرات کے اس وقت کے وزیر اعلٰی نریندر مودی نے اس قتل و غارت گری کی سرپرستی کی تھی۔

GUJRAT POST 3

یاد رہے اس وقت کی بھارت میں وفاقی حکومت کی کمان بی۔جے۔پی۔ پارٹی کے ہاتھوں میں تھی،تاہم وہ بھی گجرات میں مسلم کش فسادات روکنے میں بری طرح ناکام رہی تھی۔

gujrat1

یورپی یونین نے اس نسل کشی پر کھلے عام احتجاج کرنے سے گریز کیا، اور یہی طرز عمل امریکہ کا بھی رہا۔

تاحال مسلمان اس ریاست میں مہاجروں کی طرح رہ رہے ہیں، اور دوسرے درجے کے شہری سمجھے جاتے ہیں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top