The news is by your side.

Advertisement

پشاور : تین بہنوں سمیت 11خواتین بم ڈسپوزل یونٹ میں شامل

پشاور: خیبر پختوخواہ میں 11 خواتین سمیت 24کمانڈوز بم ڈسپوزل یونٹ میں شامل کرلیا ان خواتین میں 3بہنیں بھی شامل ہیں۔

تفصیلات کے مطابق خیبر پختوخواہ میں نوشہرہ پولیس ٹریننگ اسکول میں تربیت مکمل کرکے 3 بہنوں سمیت 11 خواتین سمیت 24کمانڈوز بم ڈسپوزل یونٹ کا حصہ بن گئے، اس یونٹ کی 11 خواتین میں خاص پہچان وہ تینوں بہنیں ہیں ، جنہوں نے اپنی ٹریننگ باقی خواتین کے ساتھ حاصل کی۔

پروین گل، رخسانہ اور سمینہ کا تعلق ضلع کرک کے غریب گھرانے سے ہے جبکہ باقی خواتین کا تعلق نوشہرہ ، چارسدہ ، بونیر ، ایبٹ آباد سے ہیں۔

چیف انسٹرکٹر شفیق خٹک نے کہا کہ لیڈی کمانڈوز کو انسپکٹر جنرل پولیس ناصر خان درانی کی ہدایت پر کورس کے لئے داخل کیا گیا تھا۔

تینوں بہنوں کا کہنا تھا کہ اُنھیں بھاری ہتھیاروں کا استعمال کے علاوہ ناکارہ کرنا بھی سکھایا گیا ہے، ہمارے والد جسمانی طور معذور ہیں، پروین گل نے بتایا جب میں اپنے گاؤں میں موبائل وینز میں پولیس کو دیکھ کر پولیس فورس کی طرف متوجہ ہوئی ، مجھے نہیں پتہ تھا کہ ایک دن میں پولیس فورس کا حصہ بن جاؤں گی۔

پروین گل نے مزید کہا کہ ثمینہ بہت خوش قسمت ہے ، جس نے پہلی کوشش میں کامیابی حاصل کی جبکہ مجھے اور میری بہن رخسانہ کو ہنگو میں منتخب کیا گیا۔


مزید پڑھیں : بم ڈسپوزل یونٹ کی پہلی خاتون اہلکار


واضح رہے کہ رافیہ قاسم بیگ پہلی پاکستانی خاتون تھیں جنہوں نے پہلی دفعہ بم ڈسپوذل یونٹ میں گذشتہ شال شمولیت اختیار کی تھی، بی ڈی یو کا حصہ بننے سے قبل رافعہ کو مرد اہلکاروں کے ہمراہ نوشہرہ کے اسکول آف ایکسپلوسو ہینڈلنگ میں بموں کی اقسام، شناخت اور ناکارہ بنانے کی تربیت دی گئی تھی۔

خیال رہے کہ اس وقت صوبہ خیبر پختونخواہ میں600 خواتین پولیس کے مختلف شعبوں میں خدمات سرانجام دے رہی ہیں۔

رافیہ قاسم بیگ پہلی پاکستانی خاتوں تھیں جنہوں نے پہلی دفعہ بم ڈسپوذل یونٹ میں گذشتہ شال شمولیت اختیار کی تھی

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں