اسپین: 11 سالہ لڑکی بچے کی ماں بن گئی، افسوسناک واقعہ spain 11 year old girl
The news is by your side.

Advertisement

اسپین: 11 سالہ لڑکی بچے کی ماں بن گئی، بھائی ذمہ دار قرار

میڈریڈ: اسپین میں افسوسناک واقعہ اُس وقت پیش آیا کہ جب اسپتال میں داخل ہونے والی 11 سالہ لڑکی نے بچے کو جنم دیا، ماں بننے والی لڑکی نے اپنے ہی سگے بھائی کو نومولود کا باپ قرار دے دیا۔

تفصیلات کے مطابق اسپین میں رہائش پذیر 11 سالہ بچی کے پیٹ میں درد ہوا تو اُس کے والدین نے ایمبولینس طلب کر کے اسپتال منتقل کیا جہاں ڈاکٹرز نے اُسے انتہائی نگہداشت وارڈ میں داخل کیا۔

والدین کا کہنا ہے کہ اُن کی بچی نے متعدد بار پیٹ میں درد کی شکایت کی جس پر انہوں نے ڈاکٹرز سے طبی معائنہ کروایا اور معمول کے مطابق ادویات دے کر اسے عام بیماری قرار دیا۔

مزید پڑھیں: موت کے 10 روز بعد حاملہ خاتون کے ہاں‌ بچے کی پیدائش

اطلاع کے مطابق تین روز قبل لڑکی کے پیٹ میں دوبارہ شدید درد اٹھا تو ایمبولینس طلب کر کے اُسے اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں ڈاکٹرز نے بیماری کی تشخیص کے لیے مختلف نوعیت کے ٹیسٹ کیے تو یہ بات سامنے آئی کہ مذکورہ لڑکی حاملہ ہے اور وہ ماں بننے والی ہے۔

اسپتال انتظامیہ نے ٹیسٹ کے بعد آنے والی رپورٹ کی روشنی میں مذکورہ مریضہ کو آپریشن تھیڑ منتقل کیا جس کے بعد اُس نے نارمل ڈلیوری کے بعد بچے کو جنم دیا، ڈاکٹرز کے مطابق بچے اور ماں دونوں کی طبیعت بہتر ہے جس کے بعد انہیں عام وارڈ میں منتقل کردیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: زیادتی کا شکار طالبہ کو مردہ بچے کی پیدائش پر 30 سال قید

اسے بھی پڑھیں: ملتان میں عجیب الخلقت بچے کی پیدائش

وزیرصحت نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے پولیس کو تحقیقات کا حکم دیا، تفتیشی ٹیم نے مذکورہ لڑکی کے 14 سالہ بھائی کو حراست میں لے کر پوچھ گچھ کا عمل شروع کردیا تاہم اسپتال انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ڈی این اے ٹیسٹ کی رپورٹ آنے کے بعد بچے کے باپ کے بارے میں حتمی بات کہہ جاسکتی ہے۔

حکومتی ترجمان کا کہنا ہے کہ واقعے کی تحقیقات شفاف انداز میں جاری ہے، ہم تمام تر حقائق جاننے کے بعد اس کا فیصلہ کریں گے اور اگر لڑکی کا بھائی اس واقعے کا مجرم قرار پایا تو اُس کے باپ کو بھی سزا دی جائے گی اور اگر  وہ ملوث نہیں بھی ہوا تب بھی باپ کو غفلت برتنے پر جیل جانا پڑ سکتا ہے۔

دوسری جانب والد نے واقعی پر لاعلمی کا اظہار کیا جس کی بنیاد پر پولیس نے اُس پر بھی شک ظاہر کیا ہے۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں، مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کےلیے سوشل میڈیا پرشیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں