The news is by your side.

Advertisement

ترک یونان سرحد پر 12 تارکین وطن کے ساتھ سانحہ (تصاویر کمزور دل افراد نہ دیکھیں)

انقرہ: ترکی اور یونان کی سرحد پر 12 مہاجرین سردی سے جم کر ہلاک ہو گئے۔

تفصیلات کے مطابق ترک یونان سرحد پر بارہ تارکین وطن سردی میں ٹھٹھر کر مر گئے، ترک وزارت داخلہ کا کہنا ہے یونانی حکام کی جانب سے تارکین وطن کو سرحد سے دھکیلا گیا تھا۔

سرحد سے دھکیلے گئے تارکین وطن کی تعداد 22 تھی، جن میں سے بارہ بد قسمت شدید سرد موسم کو برداشت نہیں کر پائے اور جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

وزیر داخلہ سلیمان سویلو نے بدھ کے روز کہا کہ ترک حکام کو 12 تارکین وطن کی لاشیں ملی ہیں جو یونان کے قریب منجمد ہو کر ہلاک ہو گئے تھے، یونانی گارڈز نے انھیں بغیر جوتوں کے سرحد پار دھکیل دیا تھا۔ ترک وزیر داخلہ نے تارکین وطن کی قومیت ظاہر نہیں کی۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق یونانی حکام نے فوری طور پر اس الزام کے بارے میں تبصرہ کرنے کی درخواست کا جواب نہیں دیا، تاہم ماضی میں ایتھنز نے ترکی کے اس طرح کے دعوؤں کی تردید کی ہے کہ اس کی افواج تارکین وطن کو واپس ترکی میں دھکیل دیتی ہیں یا تارکین وطن کی کشتیوں کو سمندر میں ڈبو دیتی ہیں۔

سویلو نے ٹویٹر پر کہا کہ مرنے والے 12 افراد 22 تارکین وطن کے ایک بڑے گروپ کا حصہ تھے جن کے جوتے اور کپڑے یونانی سرحدی سیکیورٹی نے چھین لیے تھے۔

واضح رہے کہ افریقا، مشرق وسطیٰ اور اس سے آگے کے علاقوں کے تارکین وطن اور پناہ گزینوں کے لیے یونان یورپی یونین میں داخل ہونے والے اہم راستوں میں سے ایک ہے، یہ بہاؤ 2015-2016 کے بعد سے کم ہو گیا ہے، جب ایک ملین سے زیادہ افراد یونان سے دوسری یورپی یونین کی ریاستوں میں چلے گئے تھے۔

مارچ 2016 میں، یورپی یونین نے علاقے میں مہاجرین کے بہاؤ کو روکنے کے لیے ترکی کے ساتھ ایک معاہدہ کیا تھا، جس کے تحت انقرہ کو اربوں یورو کے بدلے اپنے ملک میں جنگ سے فرار ہونے والے شامیوں کی میزبانی کرنی تھی۔

ترکی اس وقت تقریباً 4 ملین شامی پناہ گزینوں کی میزبانی کر رہا ہے، جو دنیا کی سب سے بڑی پناہ گزین آبادی ہے، اور ساتھ ہی تقریباً 3 لاکھ افغان بھی ہیں، ترکی کا اب کہنا ہے کہ وہ مزید مہاجرین کو قبول نہیں کرے گا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں