site
stats
پاکستان

خوں ریز 12 مئی کو 10 برس مکمل

کراچی: صوبہ سندھ کے دارالحکومت اور روشنیوں کے شہر کراچی پر 12 مئی 2007 کا لہولہان اور قیامت خیز دن گزرے 10 برس بیت گئے۔ سیاہ دن کو اپنی جانوں کی بازی ہارنے والوں کے لواحقین تاحال انصاف کے منتظر ہیں۔

دس سال قبل 12 مئی کا عام دن اس وقت خون ریز ہوگیا جب معطل شدہ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری سندھ ہائیکورٹ بار سے خطاب کرنے کے لیے کراچی پہنچے۔

چیف جسٹس کو اس وقت کی حکومت نے ہوائی اڈے سے باہر نکلنے کی اجازت نہیں دی۔ ایم کیو ایم کی جانب سے بھی سابق چیف جسٹس کو کراچی کا دورہ نہ کرنے کا مشورہ دیا گیا تھا۔

دوسری جانب اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے چیف جسٹس کی بھرپور حمایت کا اعلان کیا گیا تھا۔

چیف جسٹس کے کراچی پہنچتے ہی شہر میں قتل و غارت گری کا طوفان آگیا اور شہر لہو لہو ہوگیا۔

بارہ مئی کے اس بھیانک دن نے 40 شہریوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا جبکہ درجنوں شہری زخمی ہوئے۔

سانحہ 12 مئی کی تفتیش کی گاڑی کچھ ملزمان کی گرفتاری سے آگے نہ بڑھ سکی۔ وکلا کا کہنا ہے کہ سانحہ کا ذمہ دار کوئی بھی ہو، انصاف ہونا چاہیئے۔

سانحے میں ہلاک ہونے والوں کے لواحقین آج بھی اپنے پیاروں کے خون ناحق کا انصاف کیے جانے کے منتظر ہیں۔

سندھ اسمبلی میں مذمتی قرارداد

سانحہ بارہ مئی 2007 کے 10 برس بعد سندھ اسمبلی میں مذمتی قرارداد متفقہ طور پر منظور کرلی گئی۔

قرارداد کی منظوری کے بعد ایم کیو ایم نے مطالبہ کیا کہ صرف قراردادیں نہ لائی جائیں، سانحے پر کمیشن بنایا جائے تاکہ ذمہ داران کو کٹہرے میں کھڑا کیا جاسکے۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top