site
stats
پاکستان

سانحہ 12 مئی: متحدہ قیادت نے قتل وغارت کا حکم دیا، رکن اسمبلی کا اعتراف

کراچی: ایم کیو ایم کے رکن سندھ اسمبلی کامران فاروقی نے سانحہ 12 مئی سمیت دیگر قتل کی وارداتوں کا اعتراف کرتے ہوئے عدالت میں بیان حلفی جمع کروادیا، جس میں انہوں نے کہا کہ قیادت نے حکم دیا کہ افتخار چوہدری کا راستہ روکنے کے لیے قتل و غارت گری یا ہنگامہ آرائی کر کے ہر صورت شہر بند کیا جائے۔

تفصیلات کے مطابق سیشن کورٹ میں سانحہ 12 مئی کے کیس کی سماعت ہوئی جس میں متحدہ رکن اسمبلی کے بیانِ حلفی کی کاپی عدالت کو پیش کی گئی۔

رکن اسمبلی کامران فاروقی نے اپنے بیانِ حلفی میں کہا کہ 12 مئی کو کراچی بند کرنے اور افتخار چوہدری کو ہر صورت روکنے کے لیے نائن زیرو پر دو روز پہلے 10 مئی کو اجلاس طلب کیا گیا تھا جس میں فاروق ستار، عمیر صدیقی اور تمام سیکٹر انچارجز شامل تھے۔

پڑھیں: ایم کیو ایم کے رکن صوبائی اسمبلی کامران فاروقی پرفرد جرم عائد

بیانِ حلفی میں رکن سندھ اسمبلی نے کہا کہ متحدہ قیادت نے حکم دیا کہ اگر کراچی بند کرنے کے لیے قتل و غارت کرنا پڑے تو کسی چیز سے گریز نہ کیا جائے، ہنگامہ آرائی کے لیے کارکنوں کو کلاشنکوف اور دیگر اسلحہ فراہم کیا گیا۔

کامران فاروق نے کہا کہ قیادت کے حکم پر 9 اپریل 2008 کو طاہر پلازہ میں وکلاء کے دفتر کو آگ لگائی اور سیاسی مخالفین کو قتل کر کے لاشیں مختلف علاقوں میں پھینکیں جس کا حکم براہ راست حماد صدیقی نے دیا۔

رکن سندھ اسمبلی نے اپنے بیان حلفی میں جرائم کا اعتراف کرتے ہوئے عدالت سے معافی طلب کی ہے۔

مزید پڑھیں: ایم کیو ایم کے رکن اسمبلی کامران فاروقی گرفتار

یاد رہے کہ کامران فاروق کو گزشتہ برس قانون نافذ کرنے والے اداروں نے گرفتار کر کے  غیر قانونی اسلحہ اور دیگر مقدمات کی بنیاد پر انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پیش کیا تھا جس کے بعد انہیں ریمانڈ پر سینڑل جیل بھیجا گیا، بعد ازاں ایم پی اے نے عدالت میں ضمانت کی درخواست دائر کی جسے عدالت نے منظور کر کے انہیں رہا کردیا تھا۔

یاد رہے کہ گزشتہ سال سیکیورٹی اداروں نے خفیہ اطلاع پر کارروائی کرتے ہوئے ایم کیو ایم کے رکن سندھ اسمبلی محمد کامران فاروق کو 12 مئی سمیت اہم مقدمات میں ملوث ہونے کے الزام میں گرفتار کیا تھا.


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top