The news is by your side.

Advertisement

سانحہ بارہ مئی کو نو سال بیت گئے، وکلاء کا یوم ِسوگ

کراچی : سانحہ بارہ مئی2007کو گزرے نو سال بیت گئے،ا ٓج کے دن کراچی میں 40 سے زائد افراد مارے گئے تھے، وکلا برادری نے آج یوم سوگ کا اعلان کردیا ۔

سنہ 2007 میں اس وقت کے صدر جنرل پرویز مشرف کو عدلیہ کی بحالی کی تحریک کا سامنا تھا۔ 12 مئی کو معزول چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی کراچی آمد کے موقعے پر ان کی حمایت اور مخالفت میں ریلیاں نکالی گئی تھیں، اس موقع پر متحرک گروپوں میں تصادم ہوا جس میں 40 سے زیادہ افراد ہلاک اور 100 کے قریب زخمی ہوگئے تھے۔

1

12 مئی کو افتخار محمد چودھری نے سندھ ہائی کورٹ بار کے 50 سالہ تقریب سے خطاب کرنا تھا۔ اس روز ایم کیو ایم کے کارکنوں کے دھرنوں کی وجہ سے کچھ جج صاحبان عدالتوں میں بھی داخل نہیں ہوسکے تھے۔

2

روشنیوں کے شہر کراچی میں بارہ مئی دو ہزار سات کا دن تاریخ کا سیاہ ترین دن تصور کیا جاتا ہے،، یہ دن شہریوں میں خوف وہراس کی ایک علامت بن کر ابھرا ، آج سے نو برس پہلے شدید ہنگامے برپا ہوئے،قیامت خیز دن 40 شہریوں کی زندگی نگل گیا ،، جبکہ درجنوں زخمی ہوئے۔

3
اس خون ریزی کا آغاز اس وقت ہوا جب معطل شدہ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری سندھ ہائی کورٹ بار سے خطاب کرنے کے لئے کراچی پہنچے، جہاں انہیں اس وقت کی حکومت نے ہوائی اڈے سے باہر نکلنے کی اجازت نہیں دی۔ ایم کیو ایم کی جانب سے بھی سابق چیف جسٹس کو کراچی کا دورہ نہ کرنے کا مشورہ دیا گیا تھا ، جب کہ اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے جسٹس چوہدری کی حمایت کا اعلان کیا گیا تھا،، جس کے بعد بارہ مئی دو ہزار سات کے روز کراچی آگ و خون کی لپیٹ میں آگیا۔

4

شاہراہ فیصل پر سرعام فائرنگ کی گئی،،لوگوں کو زندہ بھون دیا گیا ،، وکلا اور ججز صاحبان کو سٹی کورٹ اور ہائی کورٹ تک محدود کردیا گیا۔

دوسری جانب وکلا اکثر شہروں میں سیاہ پٹیاں باندھ کر عدالتی کارروائی میں شریک ہوں گے جبکہ کئی شہروں میں عدالتوں کا مکمل بائیکاٹ کیا جائےگا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں