The news is by your side.

Advertisement

کامران فاروقی کی اطلاع پر چھاپہ مارا، رینجرز ذرائع، اچھی روایت نہیں، فاروق ستار

کراچی: سندھ رینجرز نے رکن سندھ اسمبلی کامران فاروقی کی موجودگی کی اطلاع پر متحدہ قومی موومنٹ کے ڈپٹی کنوینرفاروق ستار کے گھر پر چھاپہ مارا جس کے ردعمل میں ڈاکٹر فاروق ستار کا کہنا تھا کہ یہ اچھی روایت نہیں ہے۔

رینجرز کے ذرائع کا کہنا ہے کہ فاروق ستار کے گھر پر چھاپہ رکن سندھ اسمبلی کامران فاروقی کی موجودگی کی اطلاع پر مارا گیا، کامران فاروقی نےرینجرز کے سامنے پیش ہونے کے لیے دو ہفتے کا وقت طلب کیا تھا تاہم چھ ہفتے گزرنے کے باوجود وہ پیش نہ ہوئے۔

رینجرز ذرائع نے بتایا کہ کامران فاروقی کی پیشی کے لیے اسپیکر سندھ اسمبلی کو بھی خط لکھا تھا، کامران فاروقی کی جانب سے تین مئی کو اطلاعی خط لکھا گیا تھا۔

اسپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج درانی نے رینجرز کے خط کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ رینجرز نے کامران فاروقی سے متعلق انہیں خط لکھا تھا، کامران فاروقی اسمبلی کے اجلاس میں پیش نہ ہوئے تو رینجرز کا خط ان کے گھر بھیج دیا تھا، کامران فاروقی نے جواب دیا تھا کہ انہیں دس روز کی مہلت دی جائے۔

اطلاعات کے مطابق کامران فاروقی لیاری کے سیکٹر اوریونٹ انچارج بھی رہے ہیں، وہ اور کنور نوید قبل ازیں رینجرز کے سامنے ایک بار پیش ہوچکے ہیں۔

دوسری جانب ایم کیو ایم کے ڈپٹی کنونیر ڈاکٹر فاروق ستار نے اپنی رہائش گاہ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ  آج یکم رمضان المبارک کے پہلے روز ملک کی چوتھی بڑی جماعت کے ڈپٹی کنونیر کے گھر چھاپہ اچھی روایت نہیں۔

ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا ہے کہ ’’ مجھے اس سوچ پر حیرت ہے کہ میں اپنے گھر پر کسی مجرم کو چھپاؤں گا‘‘، ہم  محب وطن لوگ ہیں اور جرائم پیشہ افراد کے لیے ایم کیو ایم میں کوئی جگہ نہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگر ڈی جی رینجرز کے پاس اس حوالے سے کوئی اطلاعات تھیں تو وہ مجھے آگاہ کرتے میں پورے گھر میں رینجرز کو خود مدعو کرتا۔

انہوں نے ڈی جی رینجرز سے شکوہ کرتے ہوئے کہا کہ ’’میں ملک کی چوتھی بڑی جماعت کے اہم عہدے پر فائز ہوں پھر بھی ہمارے ساتھ ایسا سلوک کیا جارہا ہے‘‘۔

فاروق ستار نے کہا کہ اگر ہماری سیاسی زندگی پر تیس سال بعد بھی شک کیا جاتا ہے تو ایسی زندگی بے کار ہے، ہم اس گھر میں عرصہ دراز سے قیام پذیر ہیں اور پڑوس میں رہنے والے افراد ہمارے کردار سے اچھی طرح واقف ہیں۔

جو لوگ ملک کے اربوں کھربوں لوٹ کر چلے گئے انہیں کبھی گرفتار نہیں کیا گیا بلکہ باہر جانے کی اجازت دے دی گئی ہے، جس شخص کا نام ان کی جے آئی ٹی میں موجود ہے اسے پروں میں تحفظ فراہم کیا جاتا ہے۔

اس موقع پر ڈاکٹر فاروق ستار نے سوال کیا کہ ’’جس آدمی کی کوئی ایف آئی آر نہیں وہ کیسے مطلوب ہوسکتا ہے‘‘؟ اگر رینجرز کو مجھے گرفتار کرنا تھا تو مجھے آگاہ کرتے خود جاکر گرفتاری دیتا، ہم اس سلوک کے مستحق نہیں ہیں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں