The news is by your side.

Advertisement

ترکی:عدالت نے 13صحافیوں کو دہشت گردی کے الزام میں سزا سنادی

انقرہ : ترکی کی عدالت عالیہ نے دہشت گرد گروہوں سے رابط اور سنہ 2016 میں باغیوں کی حمایت کرنے کے الزام میں 13 صحافیوں کو سزا سناتے ہوئے جیل منتقل کرنے کا حکم دے دیا.

تفصیلات کے مطابق ترکی کی اعلیٰ عدالیہ نے گذشتہ روز صدر رجب طیب اردوگان کی حکومت کے خلاف مؤقف اختیار کرنے والے تیرہ صحافیوں کو دہشت گردی کے الزام میں سزا سنا دی ہے۔

غیر ملکی خبر رساں اداروں کا کہنا ہے کہ صحافیوں کے خلاف ترکی کی عدالت کا فیصلہ آنے کے بعد دنیا بھر میں آزادی صحافت کے حوالے سے غضے میں مزید اضافہ ہوا ہے۔

عدالت سے سزا پانے والے تمام صحافیوں کا تعلق ترکی کے مقامی اخبار سے تھا جنہوں نےترکی کی موجودہ حکومت کی غلط پالیسیوں کے خلاف آواز اٹھائی تھی۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا ہے کہ گرفتار افراد میں سے تین صحافیوں کو عدالت نے بری کردیا ہے، جبکہ سزا یافتہ صحافی فی الحال آزاد ہیں اور وہ عدالتی فیصلے کے خلاف اپیل دائر کرسکتے ہیں۔

ترک میڈیا کا کہنا تھا کہ مذکورہ صحافیوں کو سیکیورٹی اداروں نے سنہ 2016 میں رجب طیب اردوگان کی حکومت کے خلاف ناکام ہونے والی فوجی بغاوت کے بعد گرفتار کیا گیا تھا۔

ترکی کے حکومتی عہدے داران نے ترکی کے مقامی اخبار کے عملے پر کردستان ورکر پارٹی، انتہائی بائیں بازو کی جماعت پیپلز لبریشن پارٹی فرنٹ، فتح اللہ گولن سمیت دیگر دہشت گرد ملوث گروپ کی حمایت الزام عائد کیا ہے۔

 

واضح رہے کہ فتح اللہ گولن کو انقرہ میں بغاوت کرنے والے گروپ کا ماسٹر مائنڈ سمجھا جاتا ہے، گولن خود ساختہ جلاوطنی کے بعد سے امریکا میں ہی مقیم ہیں۔

ترک حکام نے امریکی حکومت کو درخواست دی تھی کہ فتح اللہ گولن کو ترکی کے حوالے کیا جائے لیکن امریکا نے گولن کو ترکی بھیجنے سے انکار کردیا تھا۔

طیب اردوگان کی حکومت کے خلاف فوجی بغاوت کی ناکامی کے بعد 50 ہزار سے زائد افراد کو گرفتار کیا گیا تھا، جبکہ باغیوں کی حمایت کرنے اور تحریک میں حصّہ لینے کے شبے میں ڈیڑھ لاکھ شہریوں کو نوکریوں سے برطرف اور معطل کردیا گیا تھا۔

ترک حکومت کی جانب سے برطرف اور معطل کیے جانے والے افراد میں صحافی، پولیس اور فوجی اہلکار و افسران سمیت بڑی تعداد میں اساتید شامل ہیں۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق سزا پانے والے صحافیوں میں ترکی کے معروف مبصرین جن میں مقامی اخبار کے ایڈیٹر انچیف مراد سابونچو، مشہور کارٹون نگار موسیٰ کارٹ اور نامور کالم نویس قادری گرسیل شامل ہیں۔

ترک عدالت نے بغاوت میں شامل ہونے کے شبے میں اخبار کے مالک آکِن اتالے کو بھی سات سال قید کی سزا سنائی ہے، جبکہ آکِن 500 پہلے ہی جیل میں گزار چکے ہیں۔

خیال رہے کہ ترکی مذکورہ اخبار نے سنہ 1924 میں صحافی ذمہ داریاں ادا کرنا شروع کی تھیں، ترک میڈیا میں سرکاری مداخلت کے باوجود مذکورہ اخبار نے آزادنہ مؤقف اپنایا جو صدر طیب اردوگان کو ناپسند تھا۔۔

ترکی عالیٰ عدلیہ کا فیصلہ آنے کے قبل اخبار نے پہلے صفحے پر لکھا تھا کہ ’بس بہت ہوگیا ظلم‘ اور عدالتی فیصلے کے بعد اخبار نے اپنی ویب سایٹ لکھا کہ ہپر ’تمہیں تاریخ میں بدترین شرمندگی کا سامنا کرنا پڑے گا‘۔

یاد رہے کہ صدر طیب اردوگان نے آزادی صحافت پرحملے کرنے کا الزام عائد ہے، گذشتہ ماہ بھی 25 صحافیوں کو فتح اللہ گولن سے رابط کے جرم میں جیل بھیجا گیا ہے۔

گذشتہ روز عدالتی فیصلے کو دنیا بھر میں شدید تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے، انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں نے بھی ترکی کی حکومت پر میڈیا پر دباؤ ڈالنے کا الزام لگایا ہے۔

صحافیوں کے حقوق کی تنظیم کمیٹی برائے تحفظ صحافی (سی پی جے) نے بھی عدالتی فیصلے کی مذمت کرتے ہوئے سزا یافتہ صحافیوں کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔

سی پی جے کی ترجمان نینا اوگنیا نوا نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ’ترک حکومت صحافیوں اور دہشت گردوں میں برابری کرنا چھوڑ دے، اور گرفتار کیے گئے تمام صحافیوں کو رہا کرکے نوکریوں پر بحال کرے‘۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں‘ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کےلیے سوشل میڈیا پرشیئر کریں

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں