The news is by your side.

Advertisement

دنیا کی سب سے بڑی جیل میں 133 واں روز

سری نگر: دنیا کی سب سے بڑی جیل میں لاکھوں کشمیریوں کو بے پناہ اذیتیں اور صعوبتیں جھیلنے کا آج 133 واں روز ہے۔

تفصیلات کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں بھارتی سرکار کی جانب سے 133 روز سے کرفیو نافذ ہے، کشمیری وادی میں محصور زندگی گزارنے پر مجبور ہیں، بھارتی فورسز نے مقبوضہ واد ی کو چھاؤنی بنا رکھا ہے۔

وادی میں 133 روز سے اسکول، کالجز، دفاتر اور تجارتی مراکز بھی بند ہی، جس کے باعث کشمیریوں کی زندگی معطل ہے، کھانے پینے کی اشیا کی شدید قلت ہے، بچوں کے لیے دودھ کا حصول بھی سخت مشکل ہو چکا ہے۔

ادھر برف باری نے کشمیریوں کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے، شدید سردی میں کشمیری بوڑھے اور بچے بیمار پڑ رہے ہیں لیکن علاج معالجے کی تمام راہیں مسدود ہیں۔ دوسری طرف قابض فورسز کے گھر گھر چھاپے مارنے کا سلسلہ بھی جاری ہے، گزشتہ روز بھی متعدد کشمیری گرفتار کر لیے گئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  دنیا کشمیر کے غیرقانونی الحاق، بھارتی فوج کے قبضے پر کارروائی کرے، وزیراعظم

وادی میں لاک ڈاؤن اور کرفیو کے ساتھ ساتھ انٹرنیٹ اور موبائل فون سروس بھی تاحال بند ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں بنیادی انسانی حقوق کی پامالی عروج پر ہے ، 80 لاکھ کشمیری بھارتی جبر سے نجات کے لیے دنیا کی طرف دیکھ رہے ہیں۔

کشمیر میڈیا سروس کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں 5 اگست سے جاری کرفیو اور پابندیوں کے دوران بھارتی فوج خواتین سمیت 38 کشمیریوں کو شہید کر چکی ہے، جب کہ 1989 سے اب تک بھارت کی قابض فوج نے 95471 کشمیریوں کو شہید کیا اور 7135 کشمیریوں کو دوران حراست شہید کیا گیا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں