ہفتہ, اپریل 18, 2026
اشتہار

جی آئی ایس سروے: ڈی آئی خان کی حدود میں 135 انڈس ڈولفنوں کی موجودگی کی تصدیق

اشتہار

حیرت انگیز

ڈیرہ اسماعیل خان (26 فروری 2026): چشمہ بیراج سے رامک تک انڈس ڈولفن کا جامع سروے مکمل ہو گیا، جی آئی ایس سروے کے ذریعے دریائے سندھ میں 135 انڈس ڈولفنوں کی موجودگی کی تصدیق ہو گئی، دریائے سندھ کے پانیوں میں ڈولفن کی آبادی میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

محکمہ جنگلی حیات خیبرپختونخوا نے جنوبی اضلاع میں ’’کنزرویشن اینڈ انڈس ریور ڈولفن‘‘ پراجیکٹ کے تحت دریائے سندھ میں جی آئی ایس بنیادوں پر انڈس ڈولفن کی مردم شماری کا سروے کامیابی سے مکمل کر لیا ہے، جس میں ڈی آئی خان کی حدود میں مجموعی طور پر 135 ڈولفنوں کی موجودگی کی تصدیق کی گئی ہے۔

ڈویژنل فاریسٹ آفیسر خان ملوک خان اور سب ڈویژنل وائلڈ لائف آفیسر ملک کی نگرانی میں ایک ہفتے تک جاری رہنے والے اس سروے کے دوران جدید جیوگرافک انفارمیشن سسٹم (جی آئی ایس) ٹیکنالوجی استعمال کی گئی۔ حکام کے مطابق اس طریقہ کار کے ذریعے دریا کے متعین حصوں میں ڈولفن کی درست نقشہ سازی، نگرانی اور دستاویزی ریکارڈ مرتب کیا گیا۔

انڈس ڈولفن دریائے سندھ

سروے دریائے سندھ میں چشمہ بیراج سے لے کر خیبرپختونخوا کی حدود میں واقع رامک تک کیا گیا۔ اس دوران اہم مسکن، گہرے تالابوں اور نقل و حرکت کے راستوں کی نشان دہی بھی کی گئی تاکہ آبادی کی تقسیم اور رہائشی حالات کا جامع جائزہ لیا جا سکے۔

ڈی ایف او خان ملوک خان کے مطابق اس نوعیت کے سروے باقاعدگی سے کیے جاتے ہیں تاکہ آبادی کی صورت حال اور رہائش کے معیار کو مسلسل مانیٹر کیا جا سکے۔ انھوں نے بتایا کہ صوبائی محکمہ جنگلی حیات نہ صرف پائیدار ماہی گیری کے فروغ کے لیے مقامی کمیونٹی میں آگاہی مہم چلاتا ہے بلکہ آب پاشی کی نہروں میں پھنس جانے والی ڈولفنز کو بچانے کے لیے ریسکیو آپریشن بھی کرتا ہے۔

ان کے مطابق حالیہ سروے کے نتائج اس علاقے میں ڈولفن کی آبادی میں نمایاں اضافے کی نشان دہی کرتے ہیں، جو دریائے سندھ کے اس حصے کی ماحولیاتی اہمیت اور جاری حفاظتی اقدامات کی مؤثریت کو ظاہر کرتا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ یہ اعداد و شمار مستقبل کی نگرانی، مسکن کے بہتر انتظام اور طویل المدتی تحفظ کی منصوبہ بندی کے لیے سائنسی بنیاد فراہم کریں گے تاکہ اس نایاب اور خطرے سے دوچار نسل کا پائیدار تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

+ posts

اہم ترین

مزید خبریں