The news is by your side.

Advertisement

الزامات غلط ثابت، امریکا میں قید پاکستانی شہری کو 14 سال بعد رہا کرنے کا فیصلہ

واشنگٹن: امریکا کی رسوائے زمانہ جیل گوانتاناموبے میں قید پاکستانی شہری احمد ربانی کو 14 برس بعد رہا کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا،چودہ برس بعد ان پر لگائے گئے الزامات غلط ثابت ہوگئے ہیں۔


US decides to release Pakistani prisoner in… by arynews

نمائندہ واشنگٹن جہانزیب علی کے مطابق احمد ربانی سعودی عرب میں پیدا ہوئے اور اٹھارہ برس کی عمر میں کراچی منتقل ہوگئے، وہ یہاں ٹیکسی ڈرائیور تھے،انہیں عربی زبان پر مکمل عبور حاصل تھاجس پرانہیں یمنی باشندہ سمجھ لیا گیا، انہیں دوہزار دو میں القاعدہ سے تعلق کے شبہے میں کراچی سے گرفتار کیا گیا تھا۔

نمائندہ واشنگٹن کے مطابق اس سارے معاملے کا ایک اور دکھ بھرا پہلو یہ ہے کہ امجد ربانی کا 14برس کا بیٹا ہے جسے انہوں نے آج تک نہیں دیکھا، چودہ برس کے دوران پاکستانی حکومت نے آج تک کبھی بھی یہ معاملہ امریکا سے نہیں اٹھایا اور اس معاملے پر کبھی بات نہیں کی کہ ان کے قیدی کو بغیر ثبوت کیوں رکھا ہوا ہے اور رہا کیوں نہیں کیا جارہا۔

نمائندے کے مطابق اور بھی کئی قیدی ہیں جنہیں عدم ثبوت کی بنا پر رہا کردیا گیا، گزشتہ ماہ بھی عدم ثبوت کی بنا پر 15قیدی رہا کرکے متحدہ عرب امارات کو دیے گئے تھے۔

جہانزیب علی نے پاکستان سفارت خانے کے اعلیٰ حکام سے بات کی تو انہوں نے لاعلمی کا اظہار کیا کہ انہیں پتا ہی نہیں کہ احمد ربانی کو کب اور کس جرم میں گرفتار کیا گیا۔

امریکی حکام کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق احمد ربانی کو سال 2004ء میں امریکا کے حوالے کیا گیا جب کہ احمد ربانی کو 10 ستمبر 2002ء میں گرفتار کیا گیا تھا،اسے دو سال تک پاکستان میں ہی رکھا گیا۔

اطلاعات ہیں کہ احمد ربانی کو سعودی عرب یا پاکستان کے حوالے کیے جائے گا، چودہ برس تک بغیر ثبوت قید رکھنے پر احمد ربانی اپنی رہائی کے بعد فیصلہ کریں گے کہ امریکی حکام کے خلاف ہرجانے کا دعویٰ دائر کریں یا نہیں۔

احمد ربانی کو رہا کرنے کے لیے پریاڈک ریویو بورڈ کا اجلاس یکم ستمبر کو ہوگا، انہوں نے اپنی رہائی کے لیے کچھ عرصے قبل بھوک ہڑتال بھی کی تھی۔

واضح رہے کہ جیل میں اس وقت احمد ربانی، سیف اللہ پراچہ، خالد عمر،عمارال بلوچ  اور ماجد خان سمیت چھ پاکستانی شہری قید ہیں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں