The news is by your side.

Advertisement

کراچی میں 15 سے زائد مسلح افراد کا کم عمر لڑکے پر تشدد

کراچی: شہر قائد کے علاقے درخشاں کیفے کلفٹن میں 15 سے زائد مسلح افراد نے کم عمر لڑکے کو تشدد کا نشانہ بنا ڈالا۔

تفصیلات کے مطابق کراچی کے علاقے درخشاں کیفے میں 15 سے زائد مسلح گارڈز نے 18 سالہ نجم کو تشدد کا نشانہ بنایا ہے، لڑکے کی والدہ نے الزام عائد کیا ہے کہ شاہ زین بگٹی کے گارڈز نے میرے بیٹے کو تشدد کا نشانہ بنایا ہے۔

لڑکے کی والدہ کا کہنا ہے کہ میرا بیٹا کلفٹن پر کھانا لینے گیا تھا، کسی بات پر میرے بیٹے اور مسلح افراد کے درمیان جھگڑا ہوا، بیٹے نے بھاگنے کی کوشش کی تو سب نے ہوائی فائرنگ کردی۔

نجم کی والدہ کا کہنا تھا کہ پولیس شاہ زین بگٹی اور اس کے گارڈز کا ساتھ دے رہی ہے۔

نمائندہ اے آر وائی نیوز کے مطابق ڈیفنس کے علاقے صبا کمرشل میں 18 سالہ لڑکا نجم کھانا لینے گیا تھا جب اسے تشدد کا نشانہ بنایا گیا، پارکنگ کے تنازع پر نجم کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔

رپورٹ کے مطابق پولیس اور رینجرز کی ٹیمیں جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں اور نجم کو طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کردیا گیا، لڑکے اور اس کی والدہ کا بیان ریکارڈ کیا جارہا ہے۔

نجم کی والدہ کا موقف ہے کہ گارڈز اب بھی وہاں پر موجود ہیں لیکن پولیس کی جانب سے کسی قسم کی کوئی کارروائی نہیں کی جارہی ہے۔

ایس پی کلفٹن سوہائے عزیز کا کہنا ہے کہ بچے اور اس کی والدہ سے ملاقات ہوئی ہے، پولیس اہلکاروں نے ملزموں کو دیکھ کر گرفتار نہیں کیا تو کارروائی ہوگی۔

ایس پی سوہائے عزیز نے کہا کہ واقعہ بہت افسوسناک ہے، اولیول کا طالب علم ہے جس پر تشدد کیا گیا ہے۔

درخشان تھانے میں طالب علم پر تشد د کا مقدمہ نامعلوم مسلح افراد کے خلاف نجم الحسن کی مدعیت میں درج کرلیا گیا ، مقدمے میں اقدام قتل، تشدد کی دفعات شامل کی گئی ہیں۔

ایف آئی آر کے متن کے مطابق گاڑی کی پارکنگ پر جھگڑا ہوا، مسلح گارڈز 15 سے 20 تھے۔

 

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں