The news is by your side.

Advertisement

دنیا بھر میں152ملین بچے جبری مشقت پر مجبور ہیں، اقوام متحدہ

نیو یارک : اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال یونیسیف کے مطابق دنیا بھر میں ایک سو باون ملین بچے جبری مشقت پر مجبور ہیں، ان کا جسمانی استحصال بھی کیا جاتا ہے۔

یونیسیف کی ایک تازہ رپورٹ کے مطابق دنیا کا ہر دسواں بچہ یا بچی زندہ رہنے یا پھر اپنے اہلخانہ کی مدد کرنے کے لیے مزدوری کرتا ہے۔ یونیسیف کی طرف سے کل بروز بدھ بارہ جون کو بچوں کی مزدوری کے خلاف عالمی دن منایا جارہا ہے۔

رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ متاثرہ بچوں میں سے نصف کو کام کے خراب حالات کا سامنا رہتا ہے ، اس کے علاوہ ان کا جسمانی استحصال بھی کیا جاتا ہے، ایسے متاثرہ بچوں کی سب سے بڑی تعداد افریقہ اور ایشیا میں ہے۔

واضح رہے کہ بچوں سے جبری مشقت کے خلاف عالمی دن یعنی چائلڈ لیبر ڈے دنیا بھر میں12جون کو منایا جاتا ہے۔ اس دن سماجی تنظیموں کی جانب سے مختلف تقریبات کا اہتمام کیاجاتا ہے تاکہ محنت کش بچوں کے مسائل کو حکومت و دیگر ذمہ داران تک موثر طریقے سے پہنچایا جاسکے۔

ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں دو کروڑ 10لاکھ بچے مزدوری کرنے پر مجبورہیں ،پاکستان میں غربت ،بے روزگاری و مہنگائی نے غریب بچوں کو اسکولوں سے اتنا دور کر دیا ہے کہ ان کے لیے تعلیم ایک خواب ہی بن کر رہ گئی ہے۔

یہ معصوم بچے بوٹ پالش کے کام سے لے کر ہوٹلوں، چائے خانوں، ورکشاپوں، مارکیٹوں، چھوٹی فیکٹریوں، گاڑیوں کی کنڈیکٹری، بھٹہ خانوں، سی این جی اور پیٹرول پمپوں پر گاڑیوں کے شیشے صاف کرنے سمیت دیگر بہت سے جبری مشقت کے کام کرتے ہیں۔

اس حوالے سے معروف ماہر اقتصادیات ڈاکٹر عشرت حسین کا کہنا ہے کہ ہماری معاشی ترقی پیداواری صلاحیتوں کے ساتھ قیام پاکستان سے اسی کی دہائی تک مستحکم اور متوازن رہی اور پھر1987کے بعد بتدریج بحرانوں کا شکار ہوتی گئی اور ملک میں بے روزگاری اور غربت میں متواتر اضافہ ہوتا رہا۔

اگرچہ اس دوران پاکستان میں بچوں کی مشقت سے متعلق مختلف اعداد وشمار کی بنیاد پر رپورٹیں سامنے آئیں لیکن ان سب میں ایک بنیادی بات یکساں تھی کہ ہمارے ہاں بچوں کی مشقت کے رجحان میں قدرے اضافہ ہوا۔

سال2000سے اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے یو این ڈی پی کے تحت ترقی پذیر ممالک میں انسانی سماجی ترقی کے لیے صحت اور تعلیم کے شعبوں میں خصوصاً بچوں کی طرف توجہ دیتے ہوئے2001تا 2010میلینیم ڈیویلپمنٹ گولز کے لحاظ سے ایک پروگرام شروع کیا گیا اور یہ طے کیا گیا تھا کہ یہ اہداف ان دس برسوں میں حاصل کرلیے جائیں گے مگر ایسا نہ ہوسکا تو اس کے بعد اب اسی پروگرام میں توسیع کی گئی ہے تاکہ ان اہداف کو2030تک حاصل کرلیا جائے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں