The news is by your side.

Advertisement

یکساں نظام تعلیم: صوبہ سندھ کی مخالفت

کراچی: ملک بھر میں یکساں نصاب تعلیم کا معاملہ ایک بار پھر کھٹائی میں پڑنے کا اندیشہ پیدا ہوگیا ہے۔

ذرائع کے مطابق سندھ نے وفاق کا نصاب تعلیم ماننے سے انکار کردیا ہے، جس کے بعد کل وزیراعظم ہاؤس میں منعقد ہونے والی تقریب میں سندھ سے کوئی شرکت نہیں کرے گا تقریب میں شرکت کے لیے وزیر تعلیم، سیکریٹری و دیگر کو مدعو کیا گیا تھا۔

وزیرتعلیم سندھ سردارشاہ کا کہنا ہے کہ ہم یکساں تعلیمی نصاب پر پہلے ہی اپنے تحفظات ظاہر کرچکےہیں، تعلیم مکمل صوبائی معاملہ ہےنصاب بھی صوبےکا معاملہ ہے، یکساں نصاب کومن وعن رائج کرنےکی پوزیشن میں نہیں ہے۔

سردارشاہ نے کہا کہ وفاقی حکومت ہم پر اپنےفیصلےمسلط نہیں کرسکتی، صوبوں کا اختیار ہے کہ وہ یکساں نصاب قبول کریں یا نہ کریں، اٹھارویں ترمیم کی روشنی میں ہمیں اختیارہےکہ ہم اپنافیصلہ کریں۔

وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود سے متعلق وزیر تعلیم سندھ کا کہنا تھا کہ شفقت محمود کہتےہیں کہ یکساں نصاب پی ٹی آئی کےمنشورکاحصہ ہے، انہیں یہ بھی معلوم ہونا چاہیئے کہ یکساں نصاب آئین کاحصہ تو نہیں ہے، پیپلزپارٹی جمہوری جماعت ہے آئین کی بالادستی پریقین رکھتی ہے۔

وزیرتعلیم سندھ کا مزید کہنا تھا کہ سندھ کی شرکت کےبغیریہ قومی اور یکساں نصاب نہیں ہوسکتا، یکساں نصاب کےسائنسی مضامین کی اچھی چیزیں قبول کرسکتےہیں،سوشل اسٹیڈیز میں ہرصوبے کی اپنی تاریخ، ثقافت اورہیروز ہوتےہیں، قومی ہیروز کل بھی ہمارے نصاب میں شامل تھے،آج بھی ہیں۔

سردارشاہ کا مزید کہنا تھا کہ اردو،انگریزی کیساتھ سندھی پڑھانا چاہتےہیں توہمارا آئینی حق ہے،ہم اس سےدستبردارنہیں ہوں گے۔

واضح رہے کہ گذشتہ روز اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیرتعلیم نے کہا تھا کہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار ‏یکساں تعلیمی نصاب لایاجارہاہے پہلی سے پانچویں جماعت میں کل سے یکساں تعلیمی نصاب لاگو ہو‏گا۔ ‏

یہ بھی پڑھیں: حکومت کا تاریخی اقدام، پہلی بار یکساں تعلیمی نصاب

شفقت محمود کا کہنا تھا کہ پنجاب،کےپی،جی ‏بی،آزادکشمیرمیں اس کا اطلاق ہوچکا ہے تاہم سندھ نے ابھی تک فیصلہ نہیں کیا سندھ حکومت ‏سے استدعا ہےکہ قومی دھارےمیں شامل ہوجائے باقی تمام صوبےیکساں تعلیمی نظام میں شامل ہو ‏رہے ہیں، معاملے پر سندھ جاکروزیراعلیٰ سندھ اور وزیرتعلیم سےملاقات کروں گا۔

وفاقی وزیر تعلیم کا کہنا تھا کہ موجودہ تعلیمی نصاب ایک ناانصافی پر مبنی ہے صرف چھوٹے طبقے کو ‏آگے بڑھنے کے بےپناہ مواقع ملنا ناانصافی ہے یکساں تعلیمی نصاب پورے ملک کےلئے انقلاب ‏ہوگا ہدف کو ذہن میں رکھ کر آگے بڑھ رہے ہیں اہداف کےلئے پرامید ہیں۔

یہ پہلا موقع نہیں ہے جب صوبہ سندھ کی جانب سے یکساں نصاب تعلیم کی مخالفت کی گئی ہے، اس سے قبل رواں سال دو جولائی کو بھی وزیراعلیٰ سندھ مرادعلی شاہ کی زیرصدارت ہونے والے اجلاس میں یکساں تعلیمی نصاب کی مخالفت کی گئی تھی۔

اجلاس میں فیصلہ کیا گیا تھا کہ صوبائی حکومت اپنا تعلیمی نصاب برقرار رکھےگی تاہم وفاق کےنصاب میں اچھی چیزکوصوبائی نصاب میں شامل کیاجائے گا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں