The news is by your side.

Advertisement

قازقستان: صدارتی حکم کے بعد ہلاکتوں میں تشویش ناک اضافہ

الماتے: قازقستان میں گولی مارنے کے حکم کے بعد ہلاکتوں میں تشویش ناک حد تک اضافہ ہو گیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق قازقستان میں سرد جنگ دور جیسے حالات پیدا ہو گئے، ملک کی اہم تنصیبات کی حفاظت روسی فوجی اتحاد کر رہا ہے۔

مظاہرین کو دیکھتے ہی بغیر وارننگ گولی مارنے کے حکم کے بعد ہلاکتوں میں تشویش ناک حد تک اضافہ ہو گیا، چوبیس گھنٹے میں ہلاکتوں کی تعداد 164 ہو گئی ہے۔

صرف دارالحکومت الماتے میں 103 افراد ہلاک ہوئے، جن میں بچے بھی شامل ہیں، جب کہ 8 ہزار سے زائد افراد گرفتار ہیں۔

الماتے فوجی چھاؤنی کا منظر پیش کر رہا ہے، جگہ جگہ ناکے اور فورسز کا گشت جاری ہے، شہر میں فیول اور اشیائے خور و نوش کی قلت پیدا ہو گئی ہے، پیٹرول پمپس، اے ٹی ایمز اور دکانوں کے باہر لوگوں کی لمبی قطاریں لگی ہیں۔

حکومت مخالف مظاہرے: قازقستان خفیہ ایجنسی کے سابق سربراہ بھی گرفتار

قازق صدر نے پھر کہا ہے کہ مظاہرین سے کسی صورت مذاکرات نہیں ہوں گے، ترکی کے بعد چین نے بھی قازقستان کو سیکیورٹی تعاون کی پیش کش کردی ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز صدر جومارت توقائیف نے مظاہروں پر قابو پانے میں ناکام ہونے پر خفیہ ادارے کے سربراہ کریم ماسیموف کو بر طرف کر دیا تھا، جس کے بعد سیکیورٹی فورسز نے انھیں گرفتار کر لیا ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں