The news is by your side.

Advertisement

مہاجرین کا معاملہ، ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف عدالت میں مقدمہ دائر

واشنگٹن : صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مہاجرین سے متعلق فیصلے کے خلاف 17 امریکی ریاستوں نے ٹرمپ پر تارکین وطن کو آپس میں جدا کرنے کا الزام عائد کرکے عدالت میں مقدمہ دائر کردیا۔

تفصیلات کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے امریکا میں پناہ حاصل کرنے خواہش مند افراد کو داخلہ نہ دینے کی پالیسی کے خلاف امریکا کی متعدد ریاستوں نے ڈونلڈ ٹرمپ کے خالف قانونی چارہ جوئی شروع کردی ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ امریکا کی 17 ریاستوں نے ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی موجودہ انتظامیہ کو مہاجرین کے ساتھ ناروا اور ظالمانہ سلوک اختیار کرنے اور غیر قانونی طور پر انہیں تقسیم کرنے کا مجرم قرار دیا ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق 17 امریکی ریاستوں نے ٹرمپ انتظامیہ کو سفاک اور سنگ دلی کے ساتھ تارکین وطن کو منقسم کرنے کا ملزم ٹہراتے ہوئے عدالت میں کیس دائر کیا ہے۔

خیال رہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کی مہاجرین سے متعلق پالیسی پر واشنگٹن، نیویارک اور کیلیفورنیا کے اٹارنی جنرلز نے سب سے پہلے مقدمہ دائر کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے امریکا میں پناہ حاصل کرنے والے تارکین وطن کو داخلے کی اجازت نہ دینے کی مخالفت کی ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ امریکی ریاستوں کے اٹارنی جنرلز کی جانب سے ڈونلڈ ٹرمپ کے 20 جون کو مہاجرین سے متعلق لیے گئے فیصلے کو دھوکا دہی قرار دیتے ہوئے واشنگٹن کے شہر سیئٹیل کی عدالت میں مقدمہ درج کروایا گیا ہے۔

اٹارنی جنرلز کا کہنا تھا کہ ٹرمپ حکومت نے مہاجرین کو امریکا میں پناہ حاصل کرنے کے حق سے دست بردار کیا ہے۔ جس کی وجہ سے پوری دنیا میں امریکا کے خلاف پھیلنے والے غم و غصّے میں مزید اضافہ ہوگا۔

برازیل میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے امریکا کے نائب صدر مائیک پنس کا کہنا تھا کہ امریکا میں سیاسی پناہ کے خواہش مند افراد غیر دستوری طور پر یو ایس اے میں داخل مت ہوں، اس طرح آپ کو اور آپ کے اہل خانہ کی دشواریوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔

مائیک پنس کا مزید کہنا تھا کہ امریکا میں داخل ہونے والے تارکین وطن خطرناک اور دشوار گزار راستوں سے آکر اپنے بچوں کو منشیات فروشی اور بردہ فروشی(انسانی اسمگلنگ) میں ملوث افراد کے چنگل میں نہ ڈالیں۔

خیال رہے کہ گزشتہ 6 ہفتوں میں امریکی سرحد پر ڈونلڈ ٹرمپ کے حکم پر تقریباََ 2 ہزار تارکین وطن کے بچوں کی ان کے گھر والوں سے علیحدہ کردیا گیا تھا۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں، مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کےلیے سوشل میڈیا پرشیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں