The news is by your side.

Advertisement

اٹارنی جنرل جیف، ٹرمپ کے لیے مشکلات کا سبب بن گئے

واشنگٹن : امریکی اٹارنی جنرل جیف سیشنز روسی سفارت کاروں سے ملاقاتوں پر غلط بیانی کرنے پر مشکل میں پھنس گئے ہیں یوں نیشنل سیکورٹی ایڈوائزر کے استعفی کے بعد ٹرمپ انتظامیہ کے اٹارنی جنرل پر بھی استعفی کیلئے شدید دباؤ بڑھ گیا ہے۔

امریکی میڈیا کے مطابق ابھی ٹرمپ انتظامیہ کے نیشنل سیکورٹی ایڈوائزر مائیکل فلن کے روسی سفارت کاروں سے رابطوں پر استعفی کے زخم بھر بھی نہ پائے تھے کہ اٹارنی جنرل جیف سیشنز کی روسی سفارت کاروں سے ملاقاتوں کی خبر نے ٹرمپ انتظامیہ کو نئی مشکل میں ڈال دیا ہے۔

واضح رہے کہ جیف سیشنزسے اسینٹ جوڈیشری کمیٹی کے اجلاس میں ٹرمپ مہم کے اراکین کی روسی سفارت کاروں سے ملاقاتوں کا پوچھا گیا تھا، جس پر انہوں نے کسی ایسی ملاقات کی تردید کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کی بھی کسی روسی سفارت کار سے کوئی ملاقات نہیں ہوئی۔

یاد رہے اس اجلاس کے بعد جیف سیشنز نے اٹارنی جنرل کا عہدہ تو سنبھال لیا مگر واشنگٹن پوسٹ کی ایک رپورٹ نے 2016 کی صدارتی مہم کے دوران جیف سیشنز کی روسی سفیر کے ساتھ دو ملاقاتوں کا بھانڈا پھوڑ دیا اور یہ خبر جہاں جیف سیشنز کیلئے ایک بڑا دھچکا ہے وہیں ٹرمپ انتظامیہ کیلئے بھی بڑا صدمہ ہے۔

یہ وجہ ہے کہ ڈیموکریٹ ہاؤس ممبرز اور سینیٹرقانون دانوں کے اجلاس میں اور پوری قوم سے جھوٹ بولنے پر جیف سیشنز سے استعفی کا مطالبہ کیا جا ر ہا ہے جب کہ ٹرمپ انتظامیہ کے مطابق جیف سیشنز نے روسی سفارت کاروں سے ملاقاتیں سینٹ آرمڈ سروسز کمیٹی کے رکن کی حیثیت سے کی تھیں اس لیے استعفی کا مطالبہ بلا جواز ہے۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں