The news is by your side.

Advertisement

پنجاب بھر سے 1856شخصیات سے سیکیورٹی واپس لے لی گئی

لاہور : سپریم کورٹ کے احکامات پر خیبرپختونخواہ کے بعد پنجاب بھر سے 1856 شخصیات سے سیکیورٹی واپس لے کر چار ہزار چھ سو انیس اہلکاروں کو بلالیا گیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ کے حکم پر عمل کرتے ہوئے پنجاب میں بھر سے اٹھار سو چھپن شخصیات سے سیکیورٹی واپس لےلی گئی اور 4619 اہلکار بلالئے گئے۔

آئی جی پنجاب کے احکامات پر 297 سیاستدانوں کی سیکیورٹی پر تعینات تیرہ سو سینتالیس اہلکاروں کی واپسی ہوگئی جبکہ 527 پولیس افسروں کی سیکیورٹی پر تعینات 1074 اہلکار کو ہٹا دیا گیا ہے۔

لوئرجوڈیشری کے افسروں کی ڈیوٹی پر مامور626 اہلکار اور تئیس وکلاء کی سیکیورٹی پرتعینات انتالیس اہلکاروں کی ڈیوٹیاں تبدیل کردی گئیں۔

اسی طرح 250 مذہبی رہنماؤں کی سیکیورٹی بھی ختم کرتے ہوئے 296 اہلکار اور233 شہریوں کی سیکیورٹی پر تعینات 1075 پولیس والے بھی واپس آگئے۔

خیال رہے کہ آئی جی نےاہلکاروں کوواپس بلانےکےلئےکل احکامات جاری کئےتھے۔

دوسری جانب سپریم کورٹ کے حکم کے بعد وفاقی وصوبائی وزرا، سابق وزرائے اعظم، سیاسی شخصیات کی سکیورٹی کا تعین بھی ہوگیا ہے، چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ کی سکیورٹی کا تعین چیف سکیورٹی آفیسرز کریں گے، چیف سکیورٹی آفیسرز کے تعین پر ہی وزرائے اعلیٰ کو سکیورٹی دی جائےگی۔

سابق وزیراعظم نواز شریف کے پروٹوکول میں 2 گاڑیاں شامل ہوں گی، نوازشریف کیساتھ ایک جیمر اور 34 پولیس اہلکار سکیورٹی ڈیوٹی پر تعینات ہوں گے۔

سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی اور چودھری شجاعت کے ساتھ ایک ایک گاڑی، اور پندرہ پندرہ اہلکار ہوں گے، حمزہ شہباز کے ساتھ ایک گاڑی اور 10 اہلکار سکیورٹی ڈیوٹی دیں گے، سلمان شہباز کیساتھ صرف ایک پولیس اہلکارتعینات ہوگا۔

سابق وزرائے اعلیٰ کے پاس ایک ایک گاڑی اور 10 ،10 اہلکار ہوں گے، وزیر سی ٹی ڈی، وزیرقانون پنجاب کیساتھ ایک ایک گاڑی،10 ،10 اہلکار ہوں گے۔

تمام ڈی سیز اور ڈی پی اوز کیساتھ 1 ،1 گاڑی، 10 ،10 اہلکار ہوں گے جبکہ چیف سیکرٹری، آئی جی پنجاب کیساتھ ایک ایک گاڑی،ایک ایک موٹرسائیکل اور 12 ،12 اہلکار ہوں گے۔

رائیونڈ جاتی امراء اور سی ایم ہاؤس سے سکیورٹی واپس بلالی گئی ہے۔

یاد رہے کہ چیف جسٹس نے سرکاری و غیر سرکاری شخصیات کو دی گئی اضافی سیکیورٹی واپس لینے کا حکم دیتے ہوئے کہا تھا کہ جن کے پاس سب کچھ ہے وہ اپنی سیکیورٹی کا بھی خود انتظام کریں۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں