The news is by your side.

Advertisement

شوگر مافیا کے خلاف بڑا قدم، دو مقدمے درج، 10 بڑے بروکر نامزد

اسلام آباد: شوگر مافیا کے خلاف آج دو منی لانڈرنگ کے مقدمات درج کیے گئے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق ایف آئی اے نے شوگر مافیا کے خلاف 2 منی لانڈرنگ کے مقدمے درج کر لیے ہیں، جن میں مشہور بروکر ملک عابد علی سمیت متعدد بڑے بروکرز نامزد کیے گئے ہیں۔

پہلی ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ مصنوعی قلت اور سٹّہ بازی کے ذریعے چینی کی قیمت کو مسلسل بڑھایا جا رہا ہے۔

مقدمہ شوگر مافیا کے بڑے بڑے بروکرز کے خلاف درج کیا گیا ہے، ایف آئی آر متن میں کہا گیا ہے کہ انکوائری میں ملک عابد نے خفیہ سٹہ مافیا کے خفیہ واٹس ایپ گروپ کا انکشاف کیا۔

اس واٹس ایپ گروپ کے ذریعے ذخیرہ اندوزی، چینی سپلائی، اور ترسیل روک کر قیمت بڑھانے کا انکشاف ہوا ہے، ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ امجد علی شوگر سٹہ انکوائری میں مرکزی ملزم ہے، جب کہ عابد علی جے ڈی ڈبلیوگروپ کے ساتھ مل کر کام کرتا تھا۔

شوگر مافیا کے منی لانڈرنگ نیٹ ورک کا انکشاف

ایف آئی آر متن کے مطابق عابد علی اشرف دوسری شوگر مل کے لیے بھی کام کرتا تھا، وہ اپنے فرنٹ مین ساجد علی، اسد پرویز کے لیے سٹہ گروپ کا واٹس اپ بھی چلاتا تھا۔

مقدمے میں کہا گیا ہے کہ تمام بڑے شوگرگروپ سٹّہ بازی کی پشت پناہی میں شامل تھے، اور بڑے پیمانے پر منی لانڈرنگ کے لیے بے نامی، اور جعلی اکاؤنٹس استعمال کیے جاتے تھے۔

ایف آئی آر متن کے مطابق عابد علی کا رائیڈرگورمے سے کیش اٹھاتا تھا، اور جے ڈبلیو ڈی میں آن لائن کیش جمع کراتا تھا، یہ رائیڈر جے ڈبلیو ڈی سے چینی گورمے پہنچاتا تھا۔

دوسری ایف آئی آر میں چینی سٹّہ مافیا کے کارندے خرم شہزاد کو نامزد کیا گیا ہے، خرم شہزاد جے ڈی ڈبلیو، آر وائی کے اور چنارگروپ کے ساتھ کام کر رہا تھا، چینی سٹّے کی رقم چھپانے کے لیے ملزم خرم شہزاد کے 8 خفیہ اور جعلی بینک کھاتوں کا سراغ ملا ہے۔

واضح رہے کہ ایف آئی اے کا کہنا ہے کہ مصنوعی قلت اور سٹہ بازی کے ذریعے چینی کی قیمت کو مسلسل بڑھایا جا رہا ہے، ایک سال کے دوران چینی کی مل قیمت کو 70 سے 90 روپے تک بڑھایا گیا، سٹہ مافیا نے ایک سال کے دوران سٹے کے ذریعے 110 ارب روپے کمائے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں