تھرپارکر: غذائی قلت اور وبائی امراض سے مزید دو بچے جاں بحق -
The news is by your side.

Advertisement

تھرپارکر: غذائی قلت اور وبائی امراض سے مزید دو بچے جاں بحق

تھرپارکر: سندھ کے سب سے بڑے ضلع تھرپارکر میں غذائی قلت اور وبائی امراض نے ڈیرہ جما لیا، ضلع کے سرکار ی اسپتال میں مزید دو بچے جاں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

تفصیلات کے مطابق ضلع تھرپارکر میں وائرل انفیکشنز اور غذائی قلت کا راج بدستور مسلط ہے، آج بھی مقامی سول اسپتال میں علاج کے لیے لائے جانے والے دو بچے انتقال کر گئے۔

اسپتال انتظامیہ کا کہنا ہے کہ متوفی بچوں میں ایک ماہ کا نظام الدین اور دو سال کا اللہ رکھیو شامل ہیں، دونوں سول اسپتال میں کئی دنوں سے زیرِ علاج تھے۔

خیال رہے کہ تھرپارکر میں غذائی قلت اور وبائی امراض کی وجہ سے رواں ماہ 60 بچوں کی اموات ہو چکی ہیں۔

اسپتال انتظامیہ کے مطابق مٹھی کے سول اسپتال میں 48 بچے زیرِ علاج ہیں، یہ بچے غذائی قلت کا شکار ہیں، جس کی وجہ سے مختلف بیماریوں کا آسانی سے شکار بن جاتے ہیں۔


یہ بھی پڑھیں:  تھرپارکر میں بچوں کی اموات، چیف جسٹس نےتحقیقاتی کمیشن بنا دیا


واضح رہے کہ چھ دن قبل بھی ضلع تھرپارکر کے اسپتال میں غذائی قلت اور وائرل انفیکشن کی وجہ سے آٹھ بچے جاں بحق ہوگئے تھے۔

متاثرہ بچوں کے والدین مٹھی اور دیگر سرکاری مراکز صحت میں طبی سہولیات کی عدم دستیابی کی شکایات کر چکے ہیں، دوسری جانب مون سون کی بارشیں نہ ہونے سے بھی علاقے میں خشک سالی پھیلی ہوئی ہے۔


اسے بھی پڑھیں:  شاہد آفریدی کا تھرپارکر میں بچوں کے لیے اسپتال قائم کرنے کا اعلان


خیال رہے کہ چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار بھی سندھ کے ضلع تھرپارکر میں بچوں کی ہلاکت کے حوالے سے تحقیقاتی کمیشن تشکیل دے چکے ہیں لیکن اس کمیشن کی کارکردگی کے بارے میں تاحال کچھ معلوم نہیں ہوسکا ہے۔

دوسری طرف قومی کرکٹ ٹیم کے کپتان شاہد خان آفریدی تین ماہ قبل تھر میں اسپتال قائم کرنے کا اعلان کر چکے ہیں، ان کا کہنا تھا کہ تھر سے انھیں محبت ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں