site
stats
پاکستان

دو لاکھ شناختی کارڈ بحال کرنے کا حکم، کم از کم ایک شرط پوری کرنا لازمی

اسلام آباد: وزارت داخلہ نے بلاک شدہ دو لاکھ سے زائد شناختی کارڈ بحال کرنے کی مد مشروط نوٹی فکیشن جاری کردیا، ان میں سے کوئی ایک شرط بھی پوری کرکے شناختی کارڈ بحال کیا جاسکتا ہے۔

تفصیلات کے مطابق ملک بھر میں غیر ملکی باشندوں کو جعلی شناختی کارڈز جاری ہونے کے متعدد کیسز سامنے آنے کے بعد وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کے حکم پر نیشنل ڈیٹا بیس رجسٹریشن اتھارٹی( نادرا) نے لاکھوں شناختی کارڈز بلاک کردیے تھے۔

تین لاکھ شناختی کارڈز بلاک کیے گئے تھے

15 اپریل کو وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا تھا کہ مشکوک ہونے کی بنا پر 3 لاکھ شناختی کارڈز بلاک کیے گئے تھے جن میں سے ایک لاکھ غیر ملکی باشندوں کے تھے جنہیں مستقل بلاک کردیا گیا ہے۔

دولاکھ بحال کرنے کا اعلان

اسی کانفرنس میں انہوں نے بقیہ دو لاکھ شناختی بحال کرنے کا اعلان کیا تھا جس کا نوٹی فکیشن اب جاری کردیا گیا ہے۔

پریس کانفرنس میں چوہدری نثار نے چند شرائط پیش کی تھیں وہی شرائط اب نوٹی فکیشن کا حصہ ہیں جس کے مطابق بلاک شدہ شناختی کارڈ کا حامل شہری مندرجہ ذیل میں سے کوئی بھی ایک شرط پوری کردے تو اس کا شناختی کارڈ بحال کیا جاسکتا ہے۔

سال 1978ء سے قبل خریدی گئی کسی اراضی کی دستاویز پیش کی جائے۔

سال 1978ء سے قبل اگر پاسپورٹ بنوایا ہے تو وہ دکھایا جائے۔

سال 1978ء سے قبل اگر ڈومیسائل بنوایا ہے تو وہ پیش کردے۔

سال 1978ء سے قبل اگر پاکستان میں تعلیم حاصل کی ہے تو توثیق شدہ تعلیمی اسناد پیش کی جائیں۔

محکمہ مال کی جانب سے تصدیق شدہ شجرہ نسب پیش کیا جائے۔

اگر خود سرکاری ملازم رہا ہے تو اس کا ثبوت پیش کردے۔

اگر کوئی خونی رشتہ دار سرکاری ملازم رہا ہے تو وہ دستاویزات پیش کردے۔

شناختی کارڈ بحال کرنے کے اعلان کی وڈیو دیکھنے کے لیے یہاں کلک کریں

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top