The news is by your side.

Advertisement

سندھ حکومت نے صوبے کے 20 اضلاع کو آفت زدہ قرار دے دیا

کراچی: سندھ حکومت نے صوبے کے 20 اضلاع کو آفت زدہ قرار دے دیا۔

تفصیلات کے مطابق سندھ حکومت کے ترجمان مرتضیٰ وہاب نے ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ 1958 ایکٹ کے تحت کراچی کے 6 اضلاع کو آفت زدہ قرار دے دیا گیا ہے۔

سندھ حکومت کے ریلیف دیپارٹمنٹ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ سندھ کے مختلف اضلاع میں مون سون سیزن کے دوران تیز بارشوں کی وجہ سے انسانی جانوں اور املاک کو بہت نقصان پہنچا ہے۔

نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ سندھ قومی آفات ایکٹ کے تحت حاصل اختیار کا استعمال کرتے ہوئے سندھ حکومت صوبے کی 4 ڈویژنز میں 20 اضلاع کو آفت زدہ قرار دیتی ہے۔

آفت زدہ قرار دیے گئے علاقوں میں ریونیو ٹیکس معطل رہے گا، ان علاقوں میں فوری طور پر سرکاری ریلیف کا کام شروع کر دیا جائے گا، اور ڈپٹی کمشنرز امدادی کاموں کی نگرانی کریں گے، نوٹیفکیشن میں ڈپٹی کمشنرز کو ہدایت کی گئی ہے کہ آفت زدہ علاقوں میں نقصانات کی تفصیلات حکومت سندھ کو دیں، جب کہ محکمہ ریلیف آفت زدہ علاقوں میں جلد امدادی کارروائیاں شروع کرنے کا پابند ہوگا۔

کراچی ڈویژن میں‌ ضلع جنوبی، غربی، شرقی، وسطی، کورنگی اور ملیر شامل ہیں۔ حیدرآباد ڈویژن میں حیدرآباد، بدین، ٹھٹھہ، سجاول، جام شورو، ٹنڈو محمد خان، ٹنڈو الہ یار، مٹیاری اور دادو کے اضلاع شامل ہیں۔ میرپورخاص ڈویژن میں میرپور خاص، عمرپور اور تھرپارکر شامل ہیں۔ جب کہ شہید بے نظیر آباد ڈویژن میں شہید بے نظیر آباد اور سانگھڑ کے اضلاع شامل ہیں۔

مذکورہ اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز کو آفت زدہ قرار دیے گئے علاقوں میں نقصانات اور ازالے کا فوری تخمینہ لگانے کی ہدایت کر دی گئی۔

واضح رہے کہ کراچی کے متعدد علاقے تاحال زیر آب ہیں، بارش تھمے 48 گھنٹے گزر چکے ہیں، لیکن تاحال کئی سوسائٹیز سے پانی نہیں نکالا جا سکا، اسکیم 33 کی بیش تر سوسائٹیز زیر آب ہیں، نیا ناظم آباد کے گھروں سے تاحال پانی نہیں نکالا جا سکا، نیو سبزی منڈی کی سڑکیں بھی سیوریج کے پانی سے تالاب بن چکی ہیں۔

دوسری طرف کراچی میں اب تک 18 افراد ندی، نالوں، انڈر پاسز اور گھروں میں ڈوبنے سے جاں بحق ہو چکے ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں