The news is by your side.

Advertisement

بیٹے تھے اللہ کے لیے قربان کردیے، 20 افراد کے قاتل کا سفاکانہ اعتراف

سرگودھا: بیس افراد کے قاتل جعلی پیر نے اعتراف جرم کرتے ہوئے کہا ہے کہ سب میرے بیٹے تھے اللہ کے لیے قربان کردیے۔

تفصیلات کے مطابق سرگودھا کی ایک درگاہ میں 20 افراد کو قتل کرنے والے متولی عبدالوحید کو پیش کیا گیا، پیشی سے واپسی پر ایک صحافی نے سوال کیا کہ اتنے لوگوں کو کیوں مارا تو کپڑا اوڑھے ہوئے ملزم نے جواب دیا کہ سب میرے بیٹے تھے اللہ کے لیے قربان کردیے۔ (جیسا کہ ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے)


یہ پڑھیں: درگاہ میں لاٹھیوں اور چھریوں کے وار سے 20 افراد قتل


ملزم عبدالوحید نے تھانے کے اندر جو بیان دیا اس کی ویڈیو منظر عام پر آگئی، درگاہ کے متولی ملزم عبدالوحید نے کہ اس نے کسی کو زہر نہیں دیا لوگوں نے خود زہر پیا ہو تو پتا نہیں، اس نے صرف ڈنڈے سے لوگوں کو مارا۔

غصہ آیا تو میں آگ بن گیا

ملزم کا کہنا تھا کہ مجھے غصہ آیا تو  میں آگ بن گیا جیسے کوئی دجال ہوتا ہے، پھر میں نے بڑا سا ڈنڈا لے کر ایک ایک کو مار کر پھینکا، میرے ساتھ یہ بچہ(آدمی) تھا میں قتل کررہا تو اور یہ پھینک رہا تھا۔

آخری سازش مجھے زہر دینا تھی جو پکڑی گئی

ملزم نے مزید کہا کہ میرے مرشد نے مجھے خود بتایا تھا کہ وہ انہیں زہر دیتے ہیں، انہوں نے کہا میں انہیں آخری سازش تک لے کر جاؤں گا، میں تو چلا جاؤں گا لیکن آخری سازش پکڑی جائے گی اور وہ آخری سازش مجھے (ملزم )زہر دینا تھی۔

دوسری جانب ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ میں واقعے کو ذاتی دشمنی کا شاخسانہ قرار دے دیا گیا ہے۔


Sargodha incident case, Court approves 3-day… by arynews

وزیر اوقاف پنجاب کا کہنا ہے کہ ملزم عبدالوحید نے تمام قتل ذاتی رنجش کی بنا پر کیے، متولی نے قبضہ جمائے رکھنے کے لیے جانشین سمیت تمام افراد قتل کیے، سفاک ملزم کو دو ساتھیوں ظفر اور آصف سمیت دو روزہ ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کردیا گیا۔

قبل ازیں ملزمان کو جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت میں پیش کیا گیا جہاں پولیس کی جانب سے پیش کی گئی ملزمان کے ریمانڈ کی درخواست عدالت نے منظور کرلی، جرم میں شریک چوتھے ملزم کاشف کو زخمی ہونے کے سبب عدالت نہ لایا گیا وہ اسپتال میں زیر علاج ہے۔

ڈی پی او سرگودھا کا کہنا ہے کہ جمع کیے گئے شواہد فرانزک لیب ارسال کردیے گئے، رپورٹ آنے پر مزید یپش رفت سامنے آئیں گی۔

واقعے کے بعد اندھی تقلید کا یہ عالم سامنے آیا کہ ملزم عبدالوحید کے خلاف کوئی مرید بیان دینے کے لیے تیار نہیں، آر پی او نے بتایا ہے کہ ایف آئی آر سرکار کی مدعیت میں درج کی گئی۔

مقتولین کے ورثا سامنے آگئے، ملزم کے خلاف مقدمہ لڑنے کا اعلان

بعدازاں میڈیا میں خبریں نشر ہونے کے بعد بیس مقتولین میں سے متعدد کے وارث سامنے آگئے اور انہوں نے ملزم متولی عبدالوحید کے خلاف مدعی بننے اور ہر سطح پر مقدمہ لڑنے کا اعلان کیا۔

اے آر وائی نیوز سے بات کرتے ہوئے کئی مقتولین کے ورثا نے کہا کہ میڈیا میں یہ خبر جاری ہوئی کہ مقدمے  میں کوئی مدعی بننے کے لیے تیار نہیں تو اس پر ہم آج ٹی وی چینل پر یہ بیان دیتے ہیں کہ ہم ملزم کے خلاف ہر سطح پر مقدمہ لڑیں گے، ہم تھانے کے باہر موجود ہیں مگر ابھی تک ہماری مدعیت میں مقدمہ درج نہیں کیا گیا۔

آر پی او ذوالفقار حمید نے کہا کہ زمین کا جھگڑا نہیں تھا، گدی نشنی کا جھگڑا تھا، حسد اور رقابت سے معاملہ یہاں تک پہنچا، واقعے کی وجہ مریدوں کا جعلی پیر کر اندھا اعتما د تھا، ملزم کا خیال تھا کہ اسے مار کر یہاں سے نکالے جانے کی سازش کی جارہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: 20 افراد کے قتل میں ملوث ملزمان کا ریمانڈ منظور

ملزم نے اعتراف جرم کرلیا ہے، ملزم پاگل نہیں ہے، جو کچھ اس نے کیا ہے وہ بتارہا ہے۔

واضح رہے کہ ملزم نے اپنے مریدوں‌ کو یہ کہہ کر قتل کیا کہ جنت کے ٹکٹ بانٹ رہا ہوں، مرنے والے سیدھا جنت میں جائیں گے بعدازاں بیس افراد کو ملزم نے تین ساتھیوں‌ کے ساتھ مل کر ڈنڈوں اور چاقووں‌ کے وار سے قتل کردیا، مرید ایک ایک کرکے اندر جاتے رہے اور لاشیں‌ گرتی رہیں

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں